امریکا خوفناک سمندری طوفان کی زد میں، ہزاروں لوگوں کی نقل مکانی

خوفناک سمندری طوفان ہاروے گزشتہ رات اپنی شدت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے امریکی ریاست ٹیکساس کے ساحلوں سے ٹکرا گیا ہے جسے ماہرین انتہائی خطرناک اور جان لیوا قرار دے رہے ہیں۔کل شام تک یہ طوفان کٹیگری 3 میں شامل تھا یعنی اس میں ہوائی جھکڑوں کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم تھی لیکن چند گھنٹوں بعد ہی جمعے کی رات تک اس کی شدت میں اضافہ ہوگیا اور جھکڑوں کی رفتار 210 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگئی؛ یعنی یہ کٹیگری 4 کا طوفانِ باد و باراں (ہریکین) بن گیا۔گورنر ٹیکساس گریگ ایبٹ نے خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان بڑی تباہی کی وجہ بنے گا اور وہاں کے شہری سیلابی صورتحال کیلیے تیار رہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گورنر ٹیکساس کی درخواست پر رات گئے ریاست ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دے دیا تھا اور متعلقہ وفاقی اداروں کو ہنگامی امدادی کارروائیوں کا فوری حکم جاری کردیا تھا۔اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ ہریکین ہاروے ٹیکساس کے ساحلی علاقوں میں داخل ہوچکا ہے جبکہ متاثرہ مقامات سے افراد کا بڑے پیمانے پر انخلا بھی شروع کردیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو کسی بنا پر متاثرہ علاقوں کو چھوڑ کر نہیں جاسکتے ان کیلیے وہیں پر محفوظ مقامات بنادیئے گئے ہیں۔