Get Adobe Flash player

مریخ پر بھی برفانی طوفان آتے ہیں، تحقیق

فرانسیسی ماہرین کی قیادت میں سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ زمین کی طرح مریخ پر بھی شدید برفانی طوفان آتے ہیں۔ البتہ یہ طوفان عموما اس وقت آتے ہیں جب مریخ پر رات ہوتی ہے۔پیری سائمن لاپلاس یونیورسٹی فرانس کے ایمیرک اسپیجا کی قیادت میں ماہرینِ فلکیات نے مریخ پر بھیجے گئے مختلف تحقیقی جہازوں کی حاصل کردہ معلومات کا جائزہ لیا اور بتایا کہ جب مریخ کے کسی حصے میں سورج غروب ہوتا ہے اور رات شروع ہوتی ہے تو وہاں کی مہین سی فضا میں موجود گرمی بڑی تیزی سے خلا میں فرار ہوجاتی ہے جس سے وہاں شدید ٹھنڈک کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔وہ علاقے جن کی فضا میں نمی کا تناسب نسبتا زیادہ ہوتا ہے اور ہوا بھی تیز چل رہی ہوتی ہے وہاں پر ہوا میں (اسی ماحول کے زیر اثر)آبی بخارات تیزی سے منجمد ہوجاتے ہیں اور شدید برفانی طوفان کی شکل میں مریخی زمین پر برسنے لگتے ہیں۔اضح رہے کہ ایک طویل بحث کے بعد آخرکار چند سال پہلے حتمی طور پر یہ معلوم ہوگیا تھا کہ مریخی قطبین پر سفید ٹوپیاں دراصل پانی کے منجمد ہو کر بننے والی برف پر ہی مشتمل ہیں۔ قبل ازیں ان سفید خد و خال کو مریخ پر منجمد کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پرتیں سمجھا جاتا تھا۔