Get Adobe Flash player

فرانسیسی صدر نے میک اپ میں خواتین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے میک اپ میں خواتین کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے برسراقتدار آنے کے بعد محض 3 ماہ میں اپنے سنگھار پر ہزاروں ڈالر خرچ کردیے۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون کے خلاف میک اپ اسکینڈل سامنے آیا ہے جس پر انہیں قومی خزانے کے غلط استعمال پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایمانوئل میکرون نے اقتدار میں آنے کے صرف 3 ماہ کے اندر اپنے بنا سنگھار پر 30 ہزار ڈالر (تقریبا 32 لاکھ روپے)خرچ کردیے یعنی انہوں نے ہر مہینے 10 ہزار ڈالر اور روزانہ 330 ڈالر خرچ کیے۔ فرانسیسی صدر نے یہ رقم اپنی جیب سے نہیں بلکہ قومی خزانے سے ادا کی۔فرانس کی معروف خاتون میک اپ آرٹسٹ نتاشا ایم کی جانب سے صدارتی محل کو بھیجے گئے دو بلوں کی رسیدیں سوشل میڈیا پر سامنے آئیں جن سے پتہ چلا کہ صدر ایمانوئل میکرون  نے 3 ماہ کے دوران اپنے میک اپ پر 26 ہزار یورو خرچ کر ڈالے۔دوسری جانب فرانسیسی صدارتی محل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں صدر کے میک اپ کو معمول کی پالیسی قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کرنے کی کوشش کی گئی۔ صدارتی بیان میں میک اپ اخراجات کے بلوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ صدر نے ہنگامی طور پر میک اپ ماہر کی خدمات حاصل کی تھیں جس کی وجہ سے زیادہ پیسے لگے تاہم آئندہ خیال رکھا جائے اور ایسا نہیں ہو گا۔اس شاہ خرچی پر عوام میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور اشرافیہ کلچر ختم ہونے کا خواب ٹوٹنے لگا کیونکہ نوجوان صدر میکرون نے حکومت میں آنے کے بعد سرکاری اخراجات میں کمی کی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ صدر کو میک اپ کی کیا ضرورت پڑگئی تو کچھ نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کیونکہ ممکن ہے کہ میکرون کی بیوی اپنے میک اپ پر شوہر سے کم رقم خرچ کریں۔ یاد رہے کہ 39 سالہ ایمانوئیل میکرون رواں سال مئی میں فرانس کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔