شمالی کوریا کی جانب سے مزید تین بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان جاری فوجی مشقوں کے جواب میں تین نئے بیلسٹک میزائلز کا تجربہ کیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان ہونے والی سالانہ فوجی مشقوں کو پہلے ہی اشتعال انگیزی قرار دے دیا تھا اور جب کہ یہ مشقیں جاری ہیں تو شمالی کوریا نے ردعمل کے طور پر تین بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کر کے امریکا کو پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے سے باز رہے۔جنوبی کورین حکام کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے صوبہ گانگ وون سے تین بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے جو تقریبا 250 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے جاپان کے قریب سمندر میں جا کر گرے۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے جاری ابتدائی بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے گئے تین میں سے دو بیلسٹک میزائل ناکام ہو گئے تھے تاہم بعد میں امریکا نے بیان جاری کیا کہ ان میں سے ایک لانچ کے فورا بعد ہی تباہ ہوگیا جب کہ دو میزائل 250 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے سمندر میں گرے۔یو ایس پیسیفک کمانڈ کا بھی کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے جانے والے میزائلوں سے امریکا کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی اس کے علاقے گوآم کو کوئی خطرہ ہے۔ امریکی پیسیفک کمانڈ کے ترجمان کمانڈر ڈیوڈ بینہم کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تازہ میزائل ٹیسٹ کی مزید جانچ کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا نے گزشتہ ماہ یہ دعوی کیا تھا کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو امریکا کو نشانہ بنا سکتے ہیں جبکہ اس نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر امریکی رویہ نہ بدلا تو وہ کوریا کے قریب موجود امریکی جزیرے گوآم کو بھی نشانہ بناسکتا ہے۔امریکا کو شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش ہے اور وہ اس پر فوری پابندی چاہتا ہے جبکہ شمالی کوریا کسی صورت اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر اقتصادی پابندیوں کی نئی قرارداد منظور کی تھی جس سے شمالی کوریا کی معیشت کو ایک ارب ڈالر تک کا نقصان ہو گا تاہم شمالی کوریا نے اس قرار داد کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے نہیں روک سکتیں۔