Get Adobe Flash player

گرومیت رام کیس، مظاہرے ختم، 552افراد گرفتار، 30آشرم بند

بھارت کے متنازع مذہبی رہنما اور ریپ کے ملزم گرو رام رحیم کے ہزاروں عقیدت مندوں اور حامیوں نے بھارتی فورسزکے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔بھارتی ریاست ہریانہ کے شمالی ضلع پنچکولا میں واقع گرومیت رام رحیم سنگھ کی تنظیم ڈیرہ سچا سودا کے ہیڈ کوارٹرز میں موجود سیکڑوں حامی بھارتی فوج کی نگرانی میں باہر آگئے۔ بھارتی عدالت کے فیصلے پر مذہبی رہنما کے ماننے والوں نے پر تشدد مظاہروں اور جلا گھیرا  کیا، کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور پیرا ملٹری افواج کے 15 ہزار اہلکار ضلع پنچکولا اور اطراف کے علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا کہ ہریانہ میں حالیہ دنوں میں ہونے والی کشیدگی پریشان کن ہے۔ انھوں نے واضح کیاکہ ملک میں تشدد کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا جبکہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ادھر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سکھوں کے روحانی پیشوا گورو گرمیت رام رحیم سنگھ کی تنظیم ڈیرا سچا سودا کے خلاف کریک ڈاون کرتے ہوئے 30 آشرم بند کردیے۔ ریاست ہریانہ میں سیکیورٹی فورسز نے کرفیو میں نرمی کرتے ہوئے گورو گرمیت سنگھ کے عقیدت مندوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا جب کہ گورو گرمیت سنگھ کے سرسا میں موجود مرکزی آشرم میں اب بھی30 ہزارکے قریب عقیدت مند موجود ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز اور عقیدت مندوں کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔