ہارٹ اٹیک سے بچانے والی انقلابی دوا تیار

سائنسدانوں نے کئی سال کی محنت کے بعد دل کے دورے سے بچانے والا ایک انقلابی انجیکشن تیار کر لیا ہے جو نہ صرف لاکھوں جانیں بچا سکتا ہے بلکہ مریضوں کو پھیپھڑے کے سرطان اور دیگر امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔واضح رہے کہ اس انجیکشن کی تیاری میں ایک طویل عرصہ لگا ہے لیکن گزشتہ چار برس سے اسے 39 ممالک کے 10 ہزار سے زائد افراد پر آزمایا گیا جس کی نگرانی ایک ہزار سے زائد ڈاکٹروں نے کی۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر مریض کو تین ماہ میں ایک مرتبہ یہ ٹیکہ لگایا جائے تو دل کے دورے کے خطرے کو 25 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے اور یہ بالخصوص پھیپھڑے کے سرطان، جوڑوں کے درد، اور گٹھیا کی شدید ترین کیفیت گاٹ لاحق ہونے کو بھی روکتا ہے۔ماہرین نے اسے دل کے امراض کے خاتمے میں ایک انقلابی علاج قرار دیا ہے اور دوا کوکینا کینومب کا نام دیا گیا ہے۔ گزشتہ 30 برس سے کولیسٹرول اور دل کے خطرے سے دوچار افراد اسٹیٹن دوائیں کھا رہے ہیں جس سے امراضِ قلب، فالج اور بلڈ پریشر میں افاقہ ہوتا ہے لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے ہزاروں لاکھوں افراد ہر سال ہارٹ اٹیک کا شکار ہو رہے ہیں جن کا بلڈ پریشر نارمل اور کولیسٹرول بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے دل کے معالجے کے نئے طریقوں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے اور شاید یہ انجکشن کسی حد تک اس مسئلے کا حل ثابت ہو سکے گا۔ماہرین کی بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ جسم کے اندر کی جلن بالخصوص سینے کی جلن بھی دل کے امراض کی پیشگی علامت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ سوزش بدن کے دفاعی نظام کی بدولت اس وقت ہوتی ہے جب وہ کسی چوٹ اور انفیکشن کی صورت میں خون کے سفید خلیات خارج کرتا ہے تاہم بے وجہ جلن دل کی رگوں کی تنگی کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔یہ تحقیق ہارورڈ میڈیکل اسکول کے پروفیسر پال رڈکر اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے جسے انہوں نے امراضِ قلب کے خلاف جنگ کا تیسرا محاذ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس دوا کی تیاری میں 20 سال تحقیق کی گئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہارٹ اٹیک کے نصف مریضوں میں کولیسٹرول کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے اندرونی سوزش کو دل کے امراض کی اہم وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔