سمندرپروقت گزارنے سے ذہنی تنا کم کرنے میں مدد ملتی ہے، تحقیق

ماہرین کے مطابق سمندروں کے کنارے رہنے والے افراد پرہجوم اورعمارتوں میں بسنے والے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ پرسکون اور ڈپریشن سے دور ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سمندر پر کچھ وقت گزارنے بلکہ اسے دیکھنے سے بھی ذہنی سکون ملتا ہے۔مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہیلتھ جیوگرافی کے ماہرین مطالعے میں سرسبز مقامات کو بھی شامل کیا ہے لیکن اس کے ذہنی صحت پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ماہرین نے نیوزی لینڈ کے علاقے ویلنگٹن میں رہنے والے مختلف افراد کا جائزہ لیا اور ان سے ذہنی تنا کے بارے میں معلوم کیا، ان میں سے جو لوگ قریب سے سمندر کو دیکھتے تھے ان میں بقیہ کے مقابلے میں کم ڈپریشن نوٹ کی گئی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس میں عمر، معاشی حیثیت اور جنس جیسے اہم عوامل کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ماہرین کے مطابق وجہ یہ ہے کہ نیلی جگہیں قدرے فطری ہوتی ہیں یعنی سمندر۔ جب کہ سبز علاقے خود انسانوں کے بنائے ہوئے بھی ہوسکتے ہیں۔ مثلا کھیل کے میدان وغیرہ۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ڈپریشن میں مبتلا افراد کو سمندر میں لے جانا مفید ثابت ہوسکتا ہے اور اگر کسی شہر میں سمندر ہے تو وہاں آبادی کے لیے کم خرچ مکانات تعمیر کیے جانے چاہئیں اس سے عوام کی بڑی تعداد کی ذہنی صحت بہتر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی ذہن پر جھیلوں اور دریاں کے اسی طرح کے اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔