ترک قوم طاقتور نہیں بلکہ ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیتی ہے، صدر طیب ایردوان

ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ہم نے دہشت گرد تنظیموں کو آلہ کار بناتے ہوئے کھیلے جانے والے کھیلوں کا  مشاہدہ کیا ہے۔ترک میڈیا کے مطابق طیب اردگان نے  صدارتی کمپلیکس  میں منعقدہ یوم ظفر  کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی پیش رفت کے  حوالے سے تمام تر متبادل  ہر لمحہ ہمارے سامنے ہیں۔ ہم دہشت گرد تنظیموں کو مہرہ بناتے ہوئے خطے میں چلی جانے والی چالوں کے اصل  چہرے کو دیکھ سک رہے ہیں اور جبری   پالیسیوں کو  رد کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ  ترکی کو   دہشت گرد تنظیموں  کے ذریعے مشکلات سے دو چار کرنے  کے خواہاں حلقے  کچھ مدت بعد اپنے  ہاتھوں میں  پن نکلے ہوئے  بموں کے ساتھ تنہا  رہ جائیں گے۔داعش۔۔ ہدف داعش ہے۔ اسوقت  ہمارے اتحادیوں کا اسلحہ داعش کے پاس سے برآمد ہو رہا ہے۔ یہ کس قسم کا اتحاد ہے؟   یہ نیٹو میں کس طرح کا ساتھ ہے،  بومے  رینگ کی طرح  یہ اسلحہ انہی کے سر پر آن پڑے گا۔ آخری بار 15 جولائی کو گلی کوچوں میں نکلنے والے لاکھوں  ہم وطنوں کے  ساتھ ہم نے  اس حقیقت کو ایک بار دیکھنے  کا موقع حاصل کیا  ہے، کہنے والے صدر اردگان  نے  بتایا کہ دہشت گرد  تنظیمیں  اور ان کو ہم پر مسلط کرنے والے  طاقتیں اپنے  گھنانے اور مذموم   اہداف کو ہر گز حاصل نہیں کر سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ غازی مصطفی کمال اتاترک کا قول ہے کہ'آزادی وخود مختاری ہماری قوم کے کردار میں رچا بسا ہے'،    انہوں نے  ہمارے ملک پر قبضہ کرنے والوں  کے لیے نعرہ بلند کیا تھا'آزادی یا موت' جو کہ  آزادانہ زندگی بسر کرنے پر مبنی  ہماریمزاج کا آئینہ دار ہے۔ترک صدر نے کہاکہ ہمارے سامنے کھڑی  تاریک طاقتوں کے اصول و اخلاق سے مبرا   حملوں  کے  مقابل ، ہم  اپنے ماضی و تہذیب سے ورثے میں ملنے والی  اقدار   سے کسی قسم کی رعایت دیے بغیر  اپنے سفر پر رواں دواں ہیں، ہم ان جیسے نہیں  بن سکتے،  ہم اپنے ضمیر ، انصاف کے جذبات اور حقانیت کے پیمانے  کو ایک طرف پھینکتے ہوئے محض اپنے ذاتی مفادات کی خاطر  راستے میں آنے والی  ہر چیز کو کچلتے ہوئے حرکت نہیں کر سکتے۔ اس بنا پر  ہم شام، عراق، بلقان، قفقاز اور شمالی افریقہ کے  بھائیوں  سے بغل  گیر ہونے کی طرح آراکان  کے مظلومین کو بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔  کیونکہ  ہم دنیا  میں ہونے والی برائیوں  کو ممکنہ حد تک اپنے بازوں کے  بل بوتے ختم کرنے، اگر اس میں ہماری طاقت ساتھ نہ دے تو زبان کے  ذریعے اظہار کرتے ہوئے  اور اگر یہ بھی نا ممکن ہو تو  دلی طور پر اسے برا بھلا کہنے پر مجبور  ہیں۔ ہمارے آبا اجداد کے تاریخ کے ہر موڑ پر طاقتور کے بجائے مظلوم کا ساتھ دینے  کی  لاتعداد مثالیں اور حقائق موجود ہونے  کی طرف  اشارہ کرنے والے جناب ایردوان نے  واضح کیا کہ  ترک قوم کی طاقت  اور اس کی ساکھ، اپنے ہمراہ تمام تر  بھائیوں اور دوستوں کے لیے بھی جدوجہد  کرنے   کا  مرہونِ منت ہے۔صدر ِ ترکی نے بالخصوص شام اورعراق میں  ترک ملت اور خطے کے بھائیوں کے مستقبل   سے تعلق رکھنے والے کسی بھی معاملے پر پیچھے قدم نہ ہٹانے پر بھی زور دیا۔خطے کی پیش رفت کے حوالے سے تمام تر متبادل   ہر لمحہ ہماری میز پر ہوتے ہیں،  نہ صرف دفاعی صنعت کے میدان میں بلکہ اقتصادی  طور پر بھی  ہمیں پیچھے  دھکیلنے کی سلاخوں کو توڑتے ہوئے آگے بڑھنے  کا ذکر کرنے والے اردگان نے  اس جانب اشارہ دیا کہ حالیہ 4 برسوں میں اوپر تلے  مسلط کردہ حربوں ، چالوں اور  رکاوٹوں کے باوجود ترک معیشت نئے سرے سے  بلندیوں کی  جانب پیش  رفت کر رہی ہے۔