امریکی اتحاد شام میں داعش کے قافلے کو نشانہ بنا سکتا ہے،ترجمان

امریکا کی قیادت میں اتحاد نے کہا ہے کہ وہ شام میں لبنان کے سرحدی علاقے سے مشرق کی جانب آنے والے داعش کے قافلے کی نگرانی کررہا ہے اور حزب اللہ سے متنازع سمجھوتے کے تحت اس طرح منتقل کیے جانے والے داعش کے جنگجوں کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔داعش مخالف اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس(اے پی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی طیاروں نے لبنان کے سرحدی علاقے سے بے دخل ہو کر آنے والے داعش کے جنگجوں کو عراق کے نزدیک سرحدی علاقے کی طرف جانے سے روکنے کے لیے پہلے ایک پل اور پھر شاہراہ کو نشانہ بنایا ہے اور ان میں گڑھے بنا دیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ  ان کی نقل وحرکت کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جارہی ہے اور اتحاد اس طرح آنے والے داعش کے جنگجوں پر حملوں کے امکان کو رد نہیں کرے گا۔حزب اللہ اور داعش کے درمیان اتوار کو طے شدہ جنگ بندی کی ڈیل کے تحت لبنان اور شام کے سرحدی علاقے سے داعش کے جنگجوں اور ان کے خاندانوں کو شام اور عراق کے درمیان سرحدی علاقے کی جانب جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ انھیں شامی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوں کی نگرانی میں سوموار اور منگل کے روز بسوں کے ذریعے جرود عرسال کے علاقے سے شام کے مشرقی شہر دیر الزور کی جانب روانہ کیا گیا تھا۔شامی حزب اختلاف کے کارکنان کا کہنا ہے کہ داعش کا جو قافلہ منگل کو لبنان اور شام کے سرحدی علاقے سے روانہ ہوا تھا ،وہ دوسرے روز ابھی تک مشرقی شام میں اسد حکومت کے عمل داری والے علاقے ہی میں ہے۔کرنل ڈیلن کا کہنا تھا کہ ہم لبنانی حزب اللہ اور داعش یا اسد حکومت کے درمیان کسی سمجھوتے میں فریق نہیں ہیں۔اس لیے داعش پر کوئی بھی حملہ مسلح تنازع کے قانون کے مطابق کیا جائے گا اور اگر ہم شہریوں اور جنگجوں کے درمیان کوئی فرق کرسکے تو پھر یہ حملہ کریں گے۔ترجمان سے قبل داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی بریٹ میکگرک نے بھی اس سمجھوتے کی مخالفت کی ہے۔انھوں نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کو تو میدان جنگ میں ہلاک کیا جانا چاہیے، نہ کہ انھیں بسوں میں سوار کرکے اور پورے شام میں پھر ا کر عراق کی سرحد پر منتقل کردیا جائیاور اس میں عراق کی رضا مند بھی شامل نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ داعش کے ان جنگجوں کے عراق میں داخلے کو روکنے کے لیے ہرممکن اقدام کیا جائے گا۔عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی کے علاوہ دوسرے عہدے داروں نے بھی حزب اللہ کے داعش کے ساتھ انخلا کے اس سمجھوتے کو مسترد کردیا ہے۔حزب اللہ پر یہ الزام عاید کیا جارہا ہے کہ اس نے لبنانی فوج کی قیمت پر داعش سے ایسا سمجھوتا کیا ہے۔شامی فوج نے بھی حزب اللہ کے داعش کے ساتھ اس طرح کے الگ سے سمجھوتے کی حمایت کی ہے۔واضح رہے کہ حزب اللہ پہلے داعش اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ محاذ کے ساتھ جنگ بندی کے سمجھوتوں کی شدت سے مخالفت کرتی رہی ہے لیکن اب اس نے خو د ہی ان سخت گیر سنی جنگجو گروپوں سے ایسے سمجھوتے کیے ہیں اور انھیں خاندانوں سمیت دیر الزور میں منتقل ہونے کے لیے محفوظ راستہ بھی دے رہی ہے۔