تنقید بلا جواز، شفاف سسٹم کے تحت کوچ بناہوں، وقار یونس

پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ وقار یونس نے اپنی تقرری کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو بلاجواز قرار دیا ہے اوردعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک شفاف سسٹم کے تحت کوچ بن کر آئے ہیں اورانہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔بھارتی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی میری تقرری کو متنازع بناکر تنقید کرتا ہے تو میں اس کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے درخواست دی تھی اور طریقہ کار کو فالو کیا ہے میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں صاف دل کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں اور مجھے کسی کھلاڑی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔وقاریونس نے کہا کہ سپورٹ اسٹاف کے لئے پی سی بی کو مشورہ دیا ہے۔ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا،سری لنکا اور نیوزی لینڈ کی سیریز سے فائدہ ہوگا۔ دوسری مرتبہ کوچ بننے والے وقار یونس اس ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے لیے اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لانا چاہتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے انہیں تمام لوگوں کا تعاون درکار ہوگا۔وقار یونس کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل ان کی اولین ترجیح ہے۔تمام لڑکے میرے لیے نئے نہیں ہیں میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ان کے ساتھ پہلے بھی کام کرچکا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ کھلاڑیوں، بورڈ اور میڈیا کے تعاون سے ٹیم کی خامیوں کو دور کر کے اسے ایک مضبوط ٹیم بنایا جائے گا۔کوچنگ کا مجھے آئیڈیا ہے یہ کیسے کی جاتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ساتھ کوچ اور بولنگ کوچ کے علاوہ میں آئی پی ایل اور سری لنکن لیگ میں بھی کوچنگ کرچکا ہے مجھے یقین ہے کہ میرا تجربہ پوری طرح میدان میں نظر آئے گا۔۔