Get Adobe Flash player

بی سی سی آئی کاچیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کے آپشن پر بھی غور

آئی سی سی اصلاحات کے خلاف بھارت نے بڑا لالچ دے کر چھوٹے بورڈز کو اپنے ساتھ ملالیا تاہم بی سی سی آئی حکام کو یقین ہے کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور زمبابوے اس کے خلاف نہیں جائیں گے۔گزشتہ روز بھارتی کرکٹ بورڈ کا خصوصی عام اجلاس ہوا جس میں  آئی سی سی سے اصلاحات اور ریونیو کی تقسیم کے حوالے سے موجودہ طریقہ کار کو جون کے آخر تک برقرار رکھنے کی درخواست کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں کونسل کے  آئندہ ہفتے دبئی میں شیڈول اجلاس میں بی سی سی آئی کے قائم مقام سیکریٹری امیتابھ چوہدری اورچیف ایگزیکٹیو راہول جوہری شرکت کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آفیشلز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ  آئی سی سی نے 2014 میں کیے گئے کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کردی ہے جس کے تحت بی سی سی  آئی گزشتہ 2 برس سے فیوچر ٹور پروگرام کی پاسداری کررہا ہے، اس دوران صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر پاکستان سے سیریز نہیں کھیلی، اب اگر کونسل کوئی تبدیلی کرے تو یہ نہ صرف کنٹریکٹ کی خلاف ورزی بلکہ اسے بی سی سی  آئی کی پیٹھ پر وار سمجھا جائے گا۔ادھر بی سی سی  آئی کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو دبے لفظوں میں دھمکی بھی دی گئی کہ اگر ضروری ہوا تو وہ ممبرز شراکت ایگریمنٹ کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کیلیے انتہائی قدم بھی اٹھائیں گے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت چیمپئنز ٹرافی کا بائیکاٹ بھی کرسکتا ہے۔علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق بورڈ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ اس موقع پر اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور زمبابوے پہلے ہی بھارت کے ساتھ ہیں اور وہ اس کے خلاف ووٹ نہیں دیں گے۔