Get Adobe Flash player

وقاریونس اور مشتاق احمد کی تقرری پر اعتراضات درست نہیں،نجم سیٹھی

پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وقار یونس ، وسیم اکرم اور مشتاق احمد کو ماضی میں بھی چیئرمین پی سی بی کی جانب سے ذمہ داریاں دی گئیں، یہ تمام کھلاڑی ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل سطح پر کسی تنازع کے بغیر کام کرتے رہے ہیں تو پھر اب ان کے دور میں اعتراضات کیوں کئے جا رہے ہیں۔ایک انٹرویو میں نجم سیٹھی نے کہا کہ ان کرکٹرز پر ماضی میں جرمانے عائد کئے گئے تھے جس کے بعد یہ کسی بھی عہدے پر کام کرنے کے اہل ہیں اورکوئی ناقدین سے یہ کیوں نہیں پوچھتا ہے کہ اب انہیں کیا مسئلہ ہے۔ ایک سوال پر پی سی بی کے سربراہ نے کہا کہ الزام لگنا اور مجرم ہونا دو مختلف باتیں ہیں اور دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سابق کپتان راشد لطیف بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سلیم ملک کو دوبارہ موقع ملنا چاہئے۔ حالیہ عرصے میں پی سی بی کو اس بارے میں کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ اہم عہدوں پر مشکوک کرکٹرز کو مواقع کیوں دیئے جا رہے ہیں جن کا نام جسٹس قیوم رپورٹ میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس قیوم رپورٹ میں صرف سلیم ملک کے بارے میں ہدایت کی گئی تھی کہ انہیں بورڈ میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے جبکہ وقار یونس، مشتاق احمد یا اعجاز احمد سمیت دیگر کرکٹرز کو جرمانوں کے بعد کلیئر قرار دے دیا گیا تھا۔