Get Adobe Flash player

اسپاٹ فکسنگ کیس مہنگا پڑنے لگا , ٹربیونل کی دھیمی چال سے پی سی بی کنگال

پاکستان سپر لیگ کا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل مہنگا پڑنے لگا،ٹربیونل کی دھیمی چال سے پاکستان کرکٹ بورڈ کنگال ہوتا جا رہا ہے جسے فیصلے میں تاخیر کے سبب ملکی ماہرین کرکٹ کی جانب سے کڑی تنقید کا بھی سامنا ہے ،چھ ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود تحقیقات کا سامنا کرنے والے کسی ایک بھی کرکٹر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا جا سکا،سماعتوں کی نصف سنچری مکمل ہو گئی جس پر پچاس لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کی جا چکی،اینٹی کرپشن ٹربیونل کے ہر رکن کو فی سماعت فیس کی مد میں پچیس ہزار روپے ادائیگی کی جا رہی ہے جبکہ دوسرے شہر سے آنے پر پینتیس ہزار ملتے ہیں،ہوائی سفر کے اخراجات علیحدہ ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں سامنے آنے والا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل پاکستان کرکٹ بورڈ کی جیب پر کافی بھاری پڑتا جا رہا ہے کیونکہ اس کیس کے حوالے سے فیصلے تاخیر کے سبب ایک جانب پی سی بی کے خزانے سے بڑی رقم جارہی ہے تو دوسری طرف سست روی کو دیکھتے ہوئے کرکٹ کے ماہرین بھی تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں اور یہ تاثر بھی جنم لے رہا ہے کہ پی سی بی کا اینٹی کرپشن ٹربیونل اور اس کے وکلاء  کے پاس اتنے ٹھوس ثبوت ہی نہیں کہ جن کی بنیاد پر اس معاملے کو کسی نتیجے پر پہنچایا جا سکے۔ واضح رہے کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آئے کم و بیش چھ ماہ گزر چکے ہیں مگر تحقیقات کا سامنا کرنے والے کسی ایک بھی کرکٹر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں سنایا جا سکا جس کے باعث کرکٹ بورڈ کے حکام ٹربیونل کی سست کارکردگی پر ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پی سی بی نے جسٹس (ریٹائرڈ) اصغر حیدر کی سربراہی میں تین رکنی اینٹی کرپشن ٹربیونل تشکیل دیا تھا جس میں سابق چیئرمین پی سی بی توقیر ضیاء اور سابق چیف سلیکٹر وسیم باری کو بھی شامل کیا گیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق ٹربیونل کے ہر رکن کو فیس کی مد میں فی سماعت 25 ہزار روپے ادائیگی کی جا رہی ہے اوراگر کوئی رکن کسی دوسرے شہر سے سماعت کیلئے آئے تو اسے 35ہزار روپے ادا کئے جاتے ہیں جبکہ فضائی سفر کے اخراجات بھی پی سی بی کے ذمہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی کا خیال تھا کہ ہر کرکٹر کی پانچ کے لگ بھگ سماعتیں ہوں گی اور یہ کیس دو ماہ میں نمٹ جائے گا لیکن اب تک مجموعی طور پر سماعتوں کی نصف سنچری مکمل ہو چکی ہے لیکن کسی ایک ملوث کرکٹر کے حوالے سے فیصلہ سامنے نہیں آسکا جس کے سبب پی سی بی کو کئی طرح سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے پر بورڈ کے خزانے سے پچاس لاکھ روپے کی بھاری رقم خرچ ہو چکی ہے اور آنے والے عرصے میں یہ خسارے کا سودا مزید بھاری پڑتا جائے گا۔ کہنے والے تو کھلے عام یہ پہلو واضح کر رہے ہیں کہ ان کرکٹرز نے اگرغلط کام کرکے نہ صرف ملک وقوم کا نام داغدار کیا بلکہ پاکستانی کرکٹ کو بھی نقصان پہنچایا تو اب ان پر یہ بھاری رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ ٹربیونل کی سست روی سے خوش نہیں کیونکہ یہ اس کی سوچ اور پلاننگ سے ہٹ کر ہے۔ واضح رہے کہ شرجیل خان کیس کی تکمیل ہو چکی جس کا فیصلہ 28 اگست کو متوقع ہے لیکن شاہ زیب حسن ،خالد لطیف اور ناصر جمشید کیس کی ابھی کئی سماعتیں باقی ہیں اور اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ بورڈ کو کتنا مہنگا پڑے گا۔ناقدین کے مطابق اس کیس پر خرچ کی جانے والی رقم اگر ڈومیسٹک کرکٹ پر خرچ کی جاتی تو بدعنوانی میں ملوث ان کھلاڑیوں سے کہیں بہتر صلاحیت سامنے آسکتی تھی بلکہ اس رقم سے قومی سطح کا ایک ٹی ٹوئنٹی ایونٹ بھی منعقد کروایا جا سکتا تھا۔