بدعنوانی میں ملوث کھلاڑیوں کیلئے پی سی بی کی دہری پالیسی

بدعنوانی میں ملوث قومی کھلاڑیوں کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی دہری پالیسی عیاں ہے کیونکہ لندن اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کھلاڑیوں کو ان کی سزاؤں کے خاتمے کی بنیاد پر نوازا جا رہا ہے تو پاکستان سپر لیگ میں مبینہ طور پر ملوث کھلاڑیوں کیخلاف سخت سزاؤں کیلئے کمر کس لی گئی ہے ، بورڈ حکام یہ بات بھی واضح کر چکے ہیں کہ پی ایس ایل کیس میں ملوث کھلاڑی فیصلوں کیخلاف عدالت میں اپیل بھی نہیں کر سکیں گے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد عامر کو سزا کے خاتمے پر فوری قومی ٹیم کا حصہ بنادیا گیا جو متواتر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ تازہ ترین فیصلہ سلمان بٹ کو لاہور وائٹس کا کپتان مقرر کرنا ہے جن کیلئے قومی ٹیم میں داخلے کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں۔ قوی امکان ہے کہ انہیں سری لنکا کیخلاف سیریز کیلئے لگائے جانے والے کیمپ میں بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کھلاڑیوں کیخلاف پی سی بی کی جانب سے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور ان کیخلاف ایسا فیصلہ دیا جائے گا کہ وہ عدالت میں اسے چیلنج بھی نہ کر سکیں اور اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ آئندہ کوئی بدعنوانی کا تصور بھی نہ کر سکے۔