نااہل بورڈ نے سری لنکن کرکٹ کو پستیوں میں دھکیل دیا

نااہل بورڈ نے سری لنکن کرکٹ کو پستیوں میں دھکیل دیا، اقربا پروری، بدانتظامی اور کرپشن کا بھیانک انجام سامنے آنے لگا۔2006میں تھلنگا سماتھی پالا اور جیانتھا دھرما داسا پر مشتمل گروپ نے سابق بورڈ سیکریٹری نشانتھا رانا ٹنگا کو بورڈ انتخابات میں شکست دی تھی، جس کے بعد ان سے بڑی توقعات وابستہ کرلی گئی تھیں، اب جب عہدہ سنبھالے 20 ماہ ہوچکے تو ان کی جانب سے کیے گئے گڈ گورننس، شفافیت اور کھیل میں بہتری کے دعوں میں سے کوئی ایک بھی پورا نہیں ہوا، الٹا بدانتظامی، کرپشن اور اقربا پروری کی وجہ سے سری لنکن ٹیم اس حال کو پہنچ چکی کہ رواں برس بنگلادیش سے ایک ٹیسٹ ہار گئی، زمبابوین ٹیم نے آئی لینڈرزکو اس کے میدانوں پر ون ڈے سیریز میں شکست دی، میزبان نے بڑی مشکل سے ان سے واحد ٹیسٹ بچایا تھا،اب بھارت نے بھی سیریز کے تینوں ہی ٹیسٹ باآسانی جیت لیے۔واضح رہے کہ اس دوران کھلاڑیوں اور آفیشلز پر میچ فکسنگ کے الزامات بھی عائد ہوئے۔ خود بورڈ نے بولنگ کوچ انوشا سمارا نائیکے کو مبینہ طور پر ایک میچ فکسڈ کرنے کے الزام میں معطل کردیا جبکہ ان کے خلاف کوئی شواہد ہی نہیں تھے، آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ نے ایس ایل سی کو مطلع کیا تھا کہ سمارا نائیکے کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے ہیں، گزشتہ برس ہی گراہم فورڈ کو دوسری مرتبہ کوچنگ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی مگرحال ہی میں چیمپئنز ٹرافی کے بعد وہ ٹیم منیجر کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے اپنی ذمہ داری سے مستعفی ہوگئے تھے۔کئی مرتبہ بورڈ کی جانب سے سلیکشن کمیٹی کو برخواست کیا جاچکا تاہم ابھی کافی عرصے سے سنتھ جے سوریا نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے۔ بورڈ کے مالی معاملات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں، سابق کپتان ارجنا رانا ٹنگا کی جانب سے بھی فکسنگ اور دیگر الزام عائد کیے جارہے ہیں۔