Get Adobe Flash player

پانی کی قلت کا بحران براہِ راست زراعت اور پاور سیکٹر کو متاثر کرے گا

 لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط، سینئر نائب صدر امجد علی جاوا اور نائب صدر محمد ناصر حمید خان نے بڑے ڈیموں میں پانی کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران براہِ راست زراعت اور پاور سیکٹر کو متاثر کرے گا ، خریف کے موسم میں پنجاب اور سندھ کی بڑی فصلوں کے لیے پانی نہ ہونے کے برابر ہوگا ۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے اور کسی بھی صورت پانی کی کمی کا متحمل نہیں ہوسکتا لیکن بدقسمتی سے اس اہم مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی نہیں بنائی گئی، ملک کا انحصار تربیلا اور منگلا ڈیم پر ہے لیکن ان ڈیموں میں بھی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے ڈیم نہ ہونا اور وسیع پیمانے پر پانی کا ضیاع آبی بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کو بلاوجہ متنازعہ بنادیا گیا جبکہ 2016-17ء میں بارہ ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع کردیا گیاجو دو بڑے ڈیموں میں ذخیرہ شدہ پانی کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1950ء میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 5000ایکڑ فٹ تھی جب اب کم ہوکر 1000ایکڑ فٹ کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ اسی طرح پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بھی 150ایکڑ فٹ تک کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے گئے اور کالاباغ ڈیم سمیت بڑے ڈیموں کی تعمیر شروع نہ کی گئی تو ملک صحرا بن جائے گاجبکہ توانائی کا بھی سنگین بحران پیدا ہوگا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر فوری طور پر شروع کرے جس سے خشک سالی اور تباہ کن سیلاب دونوں کی روک تھام میں مدد ملے گی۔