Get Adobe Flash player

گیس کی غیر منصفانہ تقسیم سے ٹیکسٹائل کی صنعت کا جنازہ نکل رہا ہے

وفاقی حکومت پاکستان کی فیڈریشن ہونے کے ناطے گیس اور RLNGک یAverage Weighted قیمت کا تعین پورے پاکستان میں یکسانیت کے ساتھ کرتے ہوئے پنجاب کی ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو وہ تحفظ فراہم کرے جسکی بدولت فیصل آباد کو نہ صرف مانچسٹر آف پاکستان کہا جاتا ہے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکسٹائل سٹی ہونے کا اعزاز بھی فیصل آباد شہر کو حاصل ہے ۔گیس جو کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کا نہایت اہم فیول ہے مگر پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو RLNGبحساب Rs.1015/-فی MMBTUمل رہی ہے ۔جبکہ صوبہ سندھ کراچی میں گیس بحساب Rs.488/-ٰفیMMBTUدستیاب ہونے کے سبب غیر منصفانہ اور غیر صحت مند مقابلہ ہونے کی وجہ سے صوبہ پنجاب کی ٹیکسٹائل کی صنعت کا جنازہ نکل رہا ہے اگر حکومت نے ایک فیڈریشن ہونے کے ناطے ان مسائل کو فوری حل نہ کیا تو پنجاب سے ٹیکسٹائل کی صنعت کا وجود ختم ہو جائے گا اور صوبہ سندھ کراچی میں ٹیکسٹائل کی صنعت منتقل کرنے کی سازش رنگ لے آئے گی اور اس عمل میں سازشی عناصر سرخرو ہونگے جبکہ پنجاب حکومت شُومیِ قسمت کے علاوہ کچھ نہ کر پائے گی۔ ان باتوں کا اظہار ایکٹنگ ر یجنل چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (APTPMA)فیصل آباد چوہدری حبیب احمد گجر نے انرجی کے مسائل کے متعلق انرجی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا جسکی ہائوس نے نہ صرف تائید کی بلکہ حکومت کی اس نا انصافی پر سراپا احتجاج ہوئے ۔دوسرا ستم یہ ہے کہ پنجا ب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو RLNGکے بلز مہینہ کی بجائے ہفتہ میں یعنی مہینے میں 4بلز ادا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے گیس کے متعلقہ ان سنگین مسائل کے سبب پنجا ب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ساتھ انتہائی ظالم سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھتے ہوئے تباہ و برباد کیا جارہا ہے ۔ ہما ری حکومت سے پُر زور اپیل ہے کہ خدارا پنجا ب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ملک بھر میں گیس اور RLNGکیAverage Weightedریٹ مقرر کرکے بچالیا جائے۔ اگر حکومت بجلی اور پٹرول کی طرح ملک بھر میں RLNGاور گیس کا Average Weightedریٹ قائم نہیں کرنا چاہتی تو پھر صوبہ پنجاب کو بھی صوبہ سندھ میں ضم کر دیا جائے۔تاکہ اس طرح سے ہی صوبہ سندھ کے گیس ریٹ کا اطلاق پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر لاگو ہو سکے اور ہفتہ وار گیس بلز کی و.صولی بھی ماہانہ بلزکی بنیاد پر ہو جائے ۔