Get Adobe Flash player

یورپین یونین کو ٹیکسٹائل کی برآمدات بڑھانے کیلئے خصوصی سیل قائم کیا جائیگا

 جی ایس پی پلس کے تحت نئے متعارف کردہ رجسٹرڈ ایکسپورٹر سسٹم (ریکس) کے تحت فیصل آباد سے یورپین یونین کو ٹیکسٹائل کی برآمدات بڑھانے کیلئے خصوصی سیل قائم کیا جائیگا۔ 2014 ء میں یورپین یونین نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دیا تھا تا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے اس ملک کی معیشت کو پہنچنے والے نقصا ن کا ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس کی مختلف وجوہات ہیں اور حکومت پاکستان نے بھی اس کمی کو روکنے کیلئے متعدداقدامات اٹھائے جن میں صنعتوں کو 24 گھنٹے مسلسل بجلی کی فراہمی ، اور جولائی 2016 سے 5 اہم برآمدی سیکٹرز کو زیرو ریٹ کرنا بھی شامل ہے۔ اپہلے سال یورپین یونین کو پاکستان کی برآمدات میں تقریباً 23 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گا ۔مگر اس کے بعد سے مسلسل برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر محمد سعید شیخ نے آج ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے زیر اہتمام رجسٹرڈ ایکسپورٹر سسٹم کے بارے میں ایک تعارفی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے باوجود برآمدات میں کمی پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اب یورپین یونین نے رجسٹرڈ ایکسپورٹر سسٹم (ریکس) کے نام سے نئی سکیم متعارف کرائی ہے جن پر کئی یورپین ملک پہلے ہی عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام سیلف سرٹیفیکیشن کے اصول پر مبنی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریکس دراصل انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی جدید نظام ہے جس کے تحت رجسٹرڈ ہونے والے پاکستانی برآمدکنندگان یورپین ملکوں کو جی ایس پی پلس کے تحت بلا روک ٹوک برآمدات کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ نیا نظام ہے اس لئے ابھی تک بہت سے برآمدکنندگان اس سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ یہی وجہ٠ ہے کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اس نئے نظام بارے برآمدکنندگان کو آگاہ کرنے کیلئے چیمبر میں نیا سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی طرف سے اس اہم موضوع پر سیمینار منعقد کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا اور کہا کہ ریکس کا نظام یکم جنوری 2017 سے شروع ہے جبکہ یہ سیل برآمدکنندگان کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ سیمینار سے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے چیئرمین انجینئر عاصم منیر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ٹی ڈیپ کے فیصل آباد کے دفتر میں مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جائے تا کہ عالمی سطح پر منعقد کی جانے والی ٹیکسٹائل کی نمائشوں میں فیصل آباد کے برآمدکنندگان کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور ٹیکسٹائل کی 13 ارب ڈالر کی برآمدات میں فیصل آباد کا حصہ 6 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد سے ٹیکسٹائل کی برآمدات کو بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں اس لئے دوسرے ملکوں کو جانے والے پاکستان کے تجارتی وفود میں فیصل آباد کی نمائندگی کوبھی مزید بڑھایا جائے۔ اس سیمینار سے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی مس نادیہ،ایڈوائزر کمال شہریار ، ڈپٹی ڈائریکٹردوست محمداورفقیر حسین کے علاوہ ٹی ڈیپ فیصل آباد کے ڈائریکٹر اللہ داد تارڑ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ٹی ڈیپ کو ملکی برآمدات میں فیصل آباد کی اہمیت کا پورا ادراک ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی برآمدات کے بارے میں ہونے والے آگاہی سیمینار تسلسل سے فیصل آباد میں بھی منعقد کئے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان فیصل آباد کے محمد لقمان، شبیر احمد ، مبارک عل ساجد اور ذوالفقار علی کے علاوہ برآمدکنندگان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔