حکومت نے بجٹ میں ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کیلئے اہم اقدامات کئے

 پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کیلئے انتہائی اہم اقدامات کئے ہیں جن کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ پاکستان کی کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں مسائل کے باوجود ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نام کما رہی ہیں اور ایوارڈ جیت رہی ہیں جبکہ بجٹ اقدامات کے بعد نئی کمپنیوں کو تین سال تک ٹیکس سے مبرا کرنے کی وجہ سے یہ ادارے ٹیکس حکام کے خوف سے آزاد ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اس کے علاوہ اسلام آبادمیں6 ارب روپے کی لاگت سے آئی ٹی پارک بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ لیپ ٹاپ اور یوتھ پروگرام کیلئے بھی 20 ارب روپے مختص کئے ہیں جو قابل تحسین ہیں۔ میاں زاہد حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بجٹ میں ای گیٹ وے کیلئے 200 ملین روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس سے موبائل بینکنگ مستحکم ہو گی ، متعلقہ افراد کی مہارت میں اضافہ ہو گا جبکہ اس شعبے میں کام کرنے والی ایس ایم ایز کی استعداد بھی بہتر ہو گی۔ اسلام آباد میں کام کرنے والی آئی ٹی کمپنیوں کی برآمدات کو سیلز ٹیکس سے مبرا قرار دیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں کراچی اور لاہور میں کام کرنے والی کمپنیوں کو بھی اس ٹیکس سے مبرا قرار دینے کی ضرورت ہے جبکہ صوبائی حکومتیں بھی اس سلسلے میں اقدامات کریں۔ ٹیلی کام مشینری پر ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے جس سے ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنا انفراسٹرکچر جدید بنانے میں مدد ملے گی، غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ موبائل کالز پر ودہولڈنگ ٹیکس چودہ فیصد سے کم کر کے ساڑھے بارہ فیصد کر دیا گیا ہے۔فائلرز تو اس ٹیکس کو ایڈجسٹ کروا لیتے ہیں مگر غریب عوام ایسا نہیں کر پاتی جس پر غور کیا جائے۔ اسمارٹ فونز پر ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ اقدامات سے نہ صرف آئی ٹی کا شعبہ ترقی کرے گا بلکہ اس سے معیشت پر مجموعی طور پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ جسکے لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیز اعظم میاںمحمد نواز شریف مبارکباد ہ کے مستحق ہیں۔