Get Adobe Flash player

شکر قندی کو کم پانی اور تھوڑی کھاد سے بھی کاشت کیا جا سکتا ہے

ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ شکر قندی موسم گرما کی ایک اہم اور نقد آور فصل ہے جسے کم پانی اور تھوڑی کھاد سے بھی اگایا جا سکتاہے جبکہ اسکابیج بھی انتہائی کم خرچ ہے جس کے باعث کاشتکار بہترمالی منافع حاصل کر سکتے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ شکر قندی میں 30 سے 35 فیصد تک کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو انسانی جسم کیلئے انتہائی مفید ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ شکر قندی کی کاشت ایسے کاشتکاروں کیلئے بھی بھاری مالی منفعت کا باعث بنتی ہے جن کے پاس فصلوں کی کاشت کیلئے زیادہ سرمایہ نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ شکر قندی کی کاشت میں بیج کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہوتا کیونکہ اس فصل کی کاشت کیلئے بیلیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ وائٹ سٹار قسم کی شکر قندی کی کاشت بمپر کراپس کی ضامن ہوتی ہے جو سفید رنگ کی اچھی پیداوار دینے والی قسم ہے ۔ انہو ں نے بتایاکہ ریتلی میرا ، پانی کے نکاس والی زمین میں فی ایکڑ 200 کلوتک شکر قندی کا بیج کاشت کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں مزید معلومات ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے بھی لی جا سکتی ہیں۔