کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے روئی کے بھائو میں مجموعی طورپر استحکام رہا

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے بھائو میں مجموعی طورپر استحکام رہا۔ سیزن تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ جنرز کے پاس روئی کی تقریباً ایک لاکھ گانٹھوں کا قلیل اسٹاک رہ گیا ہے۔ کاروباری حجم بلکل کم ہے۔ بھائو میں مجموعی اتار چڑھائو پایا جاتا ہے۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 50 روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 6800 روپے کے بھائو پر بند کیا۔صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھائو 6500 تا 7000 روپے چل رہا ہے۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ کپاس کی نئی فصل کی آمد آمد ہے۔ سندھ کے کپاس پیدا کرنے والے زریں علاقوں میی گو کہ پانی کی کمی بھی کاشت میں تاخیر کا عندیہ دیا جارہا تھا۔ لیکن گرمی کی شدد زیادہ ہونے کے سبب پھٹی کی آمد شروع ہو چکی ہے۔ میر پور خاص کی ایک جننگ فیکٹری 4 جون سے جزوی طور پر شروع ہونے کی اطلاع ہے پھٹی کی تین ٹرکس فی 40 کلو 3500 روپے کے بھائو پر فروخت ہوئی۔ بنولہ کے تین ٹرالے فی من 1600 تا 1625 کے بھائو پر فروخت ہوئے ہیں۔ بورے والا کی ایک جننگ فیکٹری 10 تا 15 جون کے درمیان سندھ کی پھٹی سے چل جائے گی۔ نئی فصل کی روئی کی 200 گانٹھوں کا سیزن کا پہلا سودا فی من 7000 روپے کے بھائو پر ہوا ہے۔ صوبہ سندھ کی مزید 2 تا 4 جننگ فیکٹریاں جزوی طور پر چلنے کی توقع ہے۔ گو کہ عیدالفطر کے بعد مزید جننگ فیکٹریاں چلے گی۔ نسیم عثمان کے مطابق موصولہ اطلاعات کے مطابق اس سال گزشتہ سال کے نسبت روئی کی پیداوار زیادہ ہونے کی توقع کی جارہی ہے زیادہ گرمی کی وجہ سے بارش بھی زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں 2017-118 میں روئی کی ہیج ٹریڈنگ COTTON HEDGE TRADING دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جس سے کپاس سے متعلق تمام اسٹاک ہولڈرز کو فائدہ ہوگا اور کپاس کے کاروبار میں وسعت پیدا ہوسکے گی۔