حکومت کومقامی سطح پر سگریٹ پرٹیکس چوری سے 40ارب روپے کانقصان

حکومت کومقامی سطح پر سگریٹ پرٹیکس چوری سے 40 ارب روپے کانقصان ہواہے، اس نقصان کو مدنظررکھتے ہوئے حکومت نے فنانس بل 2017کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001میں ایک نئی شق 236X شامل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ بلواسطہ اور بلاواسطہ تمباکو پر سیس وصول کرتے وقت تمباکو خریدنے والے سگریٹ مینوفیکچررز سمیت تمباکو کے دیگر خریداروں سے تمباکو کی مجموعی قیمت پر 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کرے گا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے مطابق حکومت کومقامی سطح پر سگریٹ پرٹیکس چوری سے 40ارب روپے کانقصان ہواہے۔بجٹ دستاویزات میںدیے گئے اعداد و شمارکے مطابق حکومت سگریٹ پرٹیکس چوری کے مسئلہ پرقابو پانے کی کوشش کر رہی ہے ،مالی سال 2016-17کے بجٹ میں سگریٹ انڈسٹری سے محصولات کا تخمینہ 111 ارب روپے تھا تاہم اس سے چالیس ارب روپے کم وصول ہوئے ہیں۔ نئے بجٹ میں حکومت نے اس معاملے کانوٹس لیتے ہوئے سگریٹ پیکٹ کی کم ازکم قیمت48 ارب روپے مقررکی ہے۔ اس اقدام سے ٹیکس سے بچی سگریٹ انڈسٹری کوٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔حکام کے مطابق حکومت نے سگریٹ بیچنے والے ریٹیلرزکو ٹیکس چوری والے سگریٹوں سے متعلق آگاہی دینے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ اسمگل شدہ اور مقامی سطح پر ٹیکس ادا کیے بغیرسگریٹ کی فروخت کا مسئلہ حل کرنے کیلیے تین سطح کی ایکسائز ڈیوٹی لگائی جائے گی۔ اس وقت مارکیٹ میں 41 فیصدسگریٹ بغیر ٹیکس ادائیگی کے فروخت ہو رہے ہیں۔ پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی جانب سے سگریٹ مینوفیکچررز سمیت تمباکو کے خریدار کسی بھی شخص سے وصول کیا جانے والا یہ 5فیصد ایڈوانس ٹیکس قابل ایڈجسٹ ہوگا جسے ٹیکس دہندگان اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کراتے وقت اپنے ذمے واجب الادا ٹیکسوں کے ساتھ ایڈجسٹ کراسکیں گے۔