بجٹ میں روزگار کے نئے مواقعوں کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے

آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت سالانہ ملازمتوں کی مانگ 25لاکھ کے قریب ہے ،تاہم نوجوان نے روزگاروں کو ملازمتوں کی فراہمی کے حوالے سے وفاقی اور حکومت پنجاب کے بجٹ میں کسی قسم کے ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔وفاقی بجٹ کو انہوں نے ببل بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر بجٹ خوش آئند لگتا ہے ،تاہم یہ بجٹ کسی طور حقیقت پرمبنی دکھائی نہیں دیتا،انہوں نے بجٹ کو حتمی شکل دینے والے مالیاتی منیجرز کی جمع تفریق کے رجحان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں مستقل اور طویل معاشی ترقی کے استحکام کیلئے اقدامات کے بجائے محض آمدن کے حصول پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے ،یہ بجٹ ایف بی آر کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے جہاں ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے ،انہوں نے بجٹ کو نمبر گیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں صنعتوں کو مراعات دینے کے بجائے محض چند سیکٹرز کو نوازا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ حکومت آمدنی کیلئے نئے ذرائع کی تلاش میں ناکام دکھائی دیتی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ حکومت ود ہولڈنگ ٹیکس کے ذریعے آمدن میں اضافے کی خواہاں ہے ،نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرکے حکومت نے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے ،انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کے استعمال پر ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے جدید دور میں انٹر نیٹ ایک بنیادی ضرورت بن گیا ہے اور معاشی ترقی کیلئے زراعت ،ایس ایم ایز ،صحت و تعلیم کے شعبوں سمیت دیگر شعبہ جات میں انٹر نیٹ کا استعمال لازمی جز بن گیا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ ایسے چھوٹے کاروباری افراد جو کہ پہلے ہی براڈ بینڈ کی مد میں ماہانہ1500روپے کے اخراجات برداشت کررہے ہیں ،ان کیلئے کاروبار کرنا مشکل ہوجائیگا ،انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر بھی ٹیکسوںکی شرح میں اضافے کو ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ قرار دیا ،ابراہیم قریشی کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ نہ ڈال سکی اور بڑی مچھلیوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے بجائے پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد کی گردنوںمیں شکنجہ مزید کس دیا گیا ،انہوں نے توانائی کے بحرا ن کے حل میںتاخیر اور بجٹ میں کالا باغ ڈیم سمیت دیگر بڑے ڈیمز کی تعمیر کیلئے خاطر خواہ رقم مختص نہ کرنے پر بھی حکام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ،ان کا کہنا تھا کہ پالیسی سازوںکو توانائی کی قلت سے دوچار عوام کے فوری ریلیف کی جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیئے تھی ،ابراہیم قریشی نے حکومت کی جانب سے بے روزگاری میں کمی ،فی کس آمدنی میں اضافے اور توانائی بحران میںکمی کے دعووں پر بھی سوالیہ نشان اٹھائے ،ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک کو درآمدی ملک میں بدل دیا ہے ،مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد سے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑے گا ،ابراہیم قریشی کا کہنا تھا کہ بجٹ میں براہ راست ٹیکسوںمیں اضافے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور حکومت کا تمام تر زور بالواسطہ ٹیکسوں کی جانب رہا۔