ایکسپورٹس میں اضافے کی خاطر مینوفیکچرنگ کی لاگت میں کمی ناگزیر ہے

پاکستان اپیرئل فورم کے چیئرمین اور پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیف کوآرڈینٹر جاوید بلوانی نے کہا بڑھتی ہوئی مینوفیکچرنگ کی لاگت میں کمی کے لئے بجٹ میں کوئی قابل ذکر اقدام نہیں۔ پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے کئی صنعتیں بند ہو چکیں ہیں، 2لاکھ سے زائد پاور لومز کٹ کرکباڑ میں فروخت ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے بھی ایکسپورٹس میں کمی واقع ہوئی ہے۔حکومت کے بجلی بحران پر قابو پانے اور صنعتوں کو بلا تعطل یوٹیلیٹیز کی فراہمی کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ گیس کی باقاعدہ اتوار کے روز اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جبکہ بجلی کی بھی کئی صنعتی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی اطلاعات ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے حکومت کو مینوفیکچرنگ لاگت کم کرنے کیلئے بجٹ تجاویز دیں تھیں کہ ایکسپورٹس میں فروغ کی خاطر 5زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ انڈسٹریز کے لئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے اور علیحدہ ٹیریف متعارف کرائے جائیں اور کاروبار دوست ماحول یقینی بنایا جائے ۔لہٰذا ایکسپورٹس کے فروغ کی خاطر ایکسپورٹس اورئینٹیڈ انڈسٹریز کی پیداواری صلاحیتوں کو مزید موافق بنانے کیلئے اہم ہے کہ حکومت خطے میں دیگر ممالک میںبجلی، گیس اور پانی کے نرخوں کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ایکسپورٹس کی صنعتوں کے لئے علیحدہ نرخ مقرر کرئے۔علاوہ ازیں ایکسپورٹس صنعتوں کو ترجیحی صنعتوں کا درجہ دیتے ہوئے صنعتوں کوترجیحی بنیادوں پر یوٹیلیٹز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ بجلی، پانی، گیس کے نرخوں کے ساتھ لیبر چارجز میں بھی کمی خطے میں مسابقتی منڈیوں اورعلاقائی ممالک میں رجحانات کے مطابق غور طلب ہے۔ صنعتکاربرادری ٹیکسوں کی بھرمار اور زائد پیداواری لاگت کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے ۔حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے کاروبار و صنعت کو ترقی حاصل ہواور ملک کی معیشت کی عملی معنوں میں استحکام حاصل ہو سکے۔ اس وقت تیزی سے گرتی ہوئی ایکسپورٹس کی صورتحال کے پیش نظر فوری ٹیکسٹائل پیکج کے تحت فوری طور پر مراعات کا بروقت یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت ملک میں جی ڈی پی میں8فیصدکے حامل ٹیکسٹائل سیکٹرکو اہمیت دیتے ہوئے وزیر اعظم کے 180بلین کے ایکسپورٹ پیکج میں سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کے سالانہ تخمینہ اور محتاط اندازے کے مطابق ڈیوٹی ڈرابیک آن ٹیکسس(DDT)کی مد میں تقریباً 35بلین روپے مختص کرے ۔ اس سال بجٹ میں ڈیوٹی ڈرابیک آن ٹیکس(ڈی ڈی ٹی) کے لئے صرف4بلین مختص کئے گئے ہیں جو ٹیکسٹائل سکیٹر کے فروغ اور ایکسپورٹس میں اضافے کے لئے نا کافی ہیں۔وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے ایکسپورٹرز کے اربوں روپے ریفنڈز کی ادائیگی، بجلی و گیس کے مہنگے نرخ میں کمی کرتے ہوئے ایکسپورٹ انڈسٹریز کے لئے علیحدہ نرخ متعارف کرائے ا ور مینوفیکچرنگ کی لاگت میںہوشربا اضافے پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کرے اور بزنس فرینڈلی ماحول کی فراہمی کا وعدہ پوراکرے۔انہوں نے زور دیا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹس میں اضافے کی خاطر حکومت ایکسپورٹرز کی بجٹ شفارشات پر عمل کرے ۔ صنعت وتجارت کے لئے ساز گار اور موافق کاروباری ماحول کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ریفنڈز کی ادائیگیوں میں تاخیرکے سبب ایکسپورٹرز کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت خود سیلز ٹیکس قوانین پر عمل نہیں کر رہی سیلز ٹیکس رولز 2006کے تحت ریفینڈز پے منٹ آرڈرز جاری ہونے کے باوجود کلیمز کی ادائیگیاں روکناٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے لئے سخت تشویش کا باعث ہے۔ گذشتہ مالی سال منظور شدہ ریفنڈز کی مکمل ادائیگیاں تا حال تاخیر کا شکارہیں۔ حالیہ بجٹ میں مختص کئے گئی فنڈز کیا بروقت ادا ہوں گے؟ مینوفیکچرنگ کی لاگت میں کمی کیلئے بجٹ میں کوئی خاص مراعات شامل نہیں۔ ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ریفنڈ، کسٹمز ریبیٹ کلیمز، DLTLکلیمز اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی مد میں حکومت کی تاخیر کے سبب ایکسپورٹرز کی مشکلات میں اضافہ ہوا اورایکسپورٹس متاثر ہوئیں۔ٹیکسٹائل پالیسی کے تحت 5بلین روپے کے فنڈز مختص کئے گئے جبکہ ڈیوٹی ڈرابیک ٹیکس آرڈر2016-17کے تحت 4بلین روپے کی رقم مختص کی گئی۔ ٹیکسٹائل پالیسی 2014-19کے تحت 80بلین روپے کے فنڈز تجویز کئے گئے تھے۔ ماضی میں مختص کئے گئے فنڈز کی مکمل ادائیگیاں نہیں کی گئیں تو حال میں کئے گئے وعدے کس طرح پورے ہوں گے؟ چند مال قبل فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے مضمرات کا احساس کئے بغیر بلامشاورت من مانی کاروائی کرتے ہوئے ERPOsرول بیک کر دیئے تھے ۔ زیر التواء ریفنڈز جن کے منظور شدہ RPOs30اپریل 2017تک منظور ہوئے ہیں ان میں 10لاکھ روپے تک کے RPOs کی ادائیگی 30اپریل2017اور باقی تمام RPOsکی ادائیگی کا 14اگست 2017تک ادائیگی کا بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے۔ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس قوانین کے تحت جاری کردہ ریفینڈز پے منٹ آرڈرزمنظور ہونے کے باوجود کلیمز کی ادائیگیاں روکناسخت تشویش کا باعث ہے۔سیلز ٹیکس قانون 26Aریفنڈز کی فوری ادائیگی سے متعلق ہے جس کے تحت ایف بی آر کا آئی ٹی رسک منجمنٹ سسٹم ریفنڈز کلیم کے داخل ہونے کے 2دن کے اندر کوئی اعتراض نہ ہونے کی صورت میں ریفنڈ پروسس کرتے ہوئے منظور شدہ ERPOجاری کرے گا جس کے تحت متعلقہ ریجنل ٹیکس آفس ساتھ کام کے دنوں میں ریفنڈز ادا کرنے کیلئے پابند ہے۔ مگر خلاف قانون ایف بی آر کی طرف سے اربوں روپے کے ریفنڈز بلاجواز اور غیر منصفانہ طور پرایک سال سے زائد عرصہ سے زیر التواء ہیں۔حالیہ بجٹ میں مختص کی گئی رقوم حکومت کس طرح بروقت حکومت ادا کرے گی؟