Get Adobe Flash player

بجٹ میںصنعتی خام مال کے کمرشل امپورٹرز کی تجاویز نظر انداز

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر اور چیئرمین انڈینٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان ثاقب فیاض مگوں نے وفاقی بجٹ 2017-18 میں صنعتی خام مال کے کمرشل امپورٹرز کو یکسر نظر انداز کرنے اور اُن کی تجاویز کو بجٹ کاحصہ نہ بنانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اوروزیرخزانہ اسحاق ڈار اور چیئرمین ایف بی آرسے بجٹ میں پیدا ہونے والی اناملیز دور کرنے کی درخواست کی ہے۔ثاقب فیاض مگوں نے صنعتی خام مال کے کمرشل امپورٹرز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کے جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت نے صنعتی خام مال کے کمرشل امپورٹرز اور صنعتوں کے درمیان تفریق کو ختم نہیں کیا اور نہ ہی برابری کی سطح پر یکساں ٹیکس کی سہولت فراہم کی۔انہوں نے کہاکہ بعض صنعتیں ٹیکسوں میں فرق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پیداواری طلب سے کئی گنا زیادہ خام مال درآمد کر کے مقامی مارکیٹ میں فروخت کردیتی ہیں جس سے کمرشل امپورٹرز کوخطیرمالی نقصانات کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے ایس آراو1125کی اناملیز کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہاکہ صنعتی خام مال کے کمرشل امپورٹرز زیرو ریٹیڈ آئٹمز غیر رجسٹرڈ کو فروخت کرنے پر 2 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرتے ہیں پھر بھی ان کی جان بخشی نہیں ہوتی بلکہ ایف بی آر کا فیلڈ اسٹاف غیر رجسٹرڈ افراد کو مال کی فروخت کی صورت میں ویری فیکیشن طلب کرتا ہے حالانکہ غیر رجسٹرڈ افراد کی ویری فیکیشن کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ایس آر او 1125 میں پہلے 500 آئٹمز لسٹڈ تھے اب کم کرکے128کر دیے گئے ہیں جو صرف5 زیرو ریٹڈ سیکٹر میں استعمال ہوتے ہیں اس کے علاوہ کسی اور سیکٹر میں استعمال نہیں ہوتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس آر او1125 میں لسٹڈ آئٹمز چاہے وہ رجسٹرڈ افراد کو فروخت ہوں یا غیر رجسٹرڈ افراد کو اسیب غیر کسی شرط کے بلاتفریق زیرو ریٹیڈ ہی تصور کیا جائے۔ثاقب فیاض مگوں نیوزیرخزانہ اسحاق ڈار اور چیئرمین ایف بی آر سے صنعتی خام مال کے کمرشل امپورٹرزاور صنعتوں کے درمیان ٹیکسوں کی تفریق ختم کرنے ، ایس آر او 1125 پر نظرثانی کرتے ہوئے ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے بجٹ میں بعض اقدامات کو سراہتے ہوئے کہاکہ تعلیم کے شعبے کے بجٹ میں مختلف مد میں21فیصد اضافے اورفنڈز کے درست استعمال سے یقینی طور پر اس کے ملکی اقتصادی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔