پاکستان میں کھلے گھی اورتیل پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں کھلے گھی اور تیل پر پابندی عائد کی جائے گی اور اس سلسلے میں قوانین کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پاکستان بناسپتی مینوفیکچرز ایسوسی ایشن اور پی ایس کیو سی اے کے مشترکہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا جو ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے محمد خالد صدیق کی زیرصدارت ہوا جس میں کئی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان میں گھی اور تیل ہر حال میں پاکستان اسٹینڈرڈز کے مطابق تیار کیا جائے دوسری صورت میں حکومت مینوفیکچرز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔ مشترکہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پی ایس کیو سی اے گھی اور آئل ملز کے ٹیکنیکل اسٹاف اور لیبارٹری سسٹم کے علاوہ گیس و بجلی کی بل بھی چیک کرے گی، غیرمعیاری ثابت ہونے کی صورت میں فیکٹری لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیاکہ مارکیٹ میں گھی تیل کے منفی رزلٹ کی تمام تر ذمے داری لائسنس ہولدڑز کی ہوگی۔رزلٹ کو چیلنج کرنے کی صورت میں اتھارٹی تیسرے فریق سے چیک کرانے کا اختیار رکھتی ہے، پی ایس کیو سی اے اور پی وی ایم اے کا جوائنٹ ورکنگ گروپ بنادیا گیا ہے جو مختلف مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے لائحہ عمل تیار کرے گا اور اپنی سفارشات مرتب کرے گا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان کوالٹی اسٹینڈرڈز چیک کرنے کے اختیارات میں توازن قائم کرنے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے نے کہاکہ غیرمعیاری اشیا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اگر کوئی غیرقانونی یا غیررجسٹرڈ اشیا پکڑی گئیں تو مالکان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور قانون شکن افراد کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔