حکومت فوڈ سیکورٹی کے صورتحال بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے

پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے حکومت فوڈ سیکورٹی کے صورتحال بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے۔ پاکستان میں غذا دستیاب ہے مگر اسکے قیمتیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے عوام مسائل سے دوچار ہے۔ عالمی کساد بازاری نے جہاں ہماری برآمدات کو متاثر کیا ہے وہیںدنیا بھر میں فوڈ سیکورٹی کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے جس سے نمٹنے کیلئے تمام ممالک کو مل کر کوششیں کرنا ہونگی۔یوا ین پی کے مطابق ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ پاکستان میں فوڈ سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے سرمایہ کاری اور پالیسی اصلاحات غیر اطمینان بخش ہیںجن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ملک میں ابھی تک فوڈ سیکورٹی کے متعلق کوئی جامع سروے بھی نہیں کیا گیا اسلئے پالیسی ساززمینی حقائق کے مطابق موثر اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ عوام کو غربت، افلاس اور بھوک سے نجات دلا کر فوڈ سیکورٹی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ غریب سارک ممالک میں رہتے ہیں جن پر نہ ختم ہونے والی سیاسی کشمکش نے ترقی کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔فوڈ سیکورٹی کا مطلب صرف خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ اسے مناسب قیمت پر ممکن الحصول بنانا بھی ہے کیونکہ مناسب ، سستی اور صحت بخش خوارک تک رسائی ہر شخص کا حق ہے۔ 2050 تک دنیا کی آبادی نو ارب ہو گی جن کو زندہ رکھنے کیلئے دنیا کی پیداوار میں پچاس فیصد اضافہ کرنا ہو گا جو کاشتکاروں کو معاشی تحفظ دئیے بغیر ناممکن ہے۔ ترقی پزیر ممالک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی سے فصلوں کی پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں 13 ملین ہیکٹر رقبہ میں سے 94 فیصد پر گندم، چاول اور مکئی کی کاشت ہوتی ہے مگر پیداوار کم ہے۔ان میں سب سے اہم فصل گندم کی ہے جسکے کاشتکاروں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جنھیں حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔