Get Adobe Flash player

سعودی عرب میںمضرصحت اور پرتعیش اشیاء پر ٹیکس عائد

 سعودی عرب کی حکومت نے انسانی صحت اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ سمجھی جانے والی اشیاء اور پرتعیش سامان پر نیا ٹیکس عائد کیا ہے۔میڈیا کے مطابق سعودی حکومت نے تمباکو اور اس سے تیار کردہ مصنوعات اور توانائی بڑھانے والے مشروبات پر ٹیکسوں کی شرح میں 100 فی صد اور دیگر کولڈ ڈرنکس پر 50 فی صد اضافی ٹیکس عائد کیا ہے۔اخبار 'الاقتصادیہ' کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب پہلا ملک نہیں جس نے پرتعیش اشیاء اور مضرصحت چیزوں پر بھاری ٹیکس عائد کیا ہے۔ خلیج کے بیشتر ممالک پہلے اس طرح کی چیزوں پر ٹیکس لگا چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت کی طرف سے مضر صحت سمجھی جانے والی منتخب اشیاء پر ٹیکس عائد کیا ہے۔ خاص طور وہ اشیاء جنہیں عالمی ادارہ صحت بھی انسانی صحت اور ماحولیات کے لیے خطرناک قرار دے کران کا استعمال محدود کرنے کی سفارش کرچکا ہے۔ سعودی عرب عالمی معاہدوں کی رو سے مضر صحت اشیاء کے استعمال کی روک تھام کی شرایط کا پابند ہے۔ اس کے علاوہ خلیج تعاون کونسل کے ٹیکس ریفارمز پروگرام کے تحت بھی پرتعیش اشیاء اور صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں پر ٹیکس عاید کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔نئے ٹیکس سسٹم کے تحت گیس مشروبات کی ڈیڑھ ریال کی پیکنگ کے نئے نرخ 2.25 ریال مقرر کئے گئے ہیں۔توانائی بڑھانے کے لیے استعمال کیے جانے والے مشروبات کی قیمتوں میں 100 فی صد اضافہ کیا گیا ہے۔ ایسے مشروبات کی 3 ریال پیکنگ کی نئی قیمت6 ریال اور 2 ریال کی 4 ریال ہوگی۔ تمباکو اور اس سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی 10 ریال پیکنگ کی نئی قیمت 20 ریال اور 12ریال کی 24 ریال ہوگی۔