گردشی قرض بڑھ کر پھر 2012کی سطح پر آگیا

گردشی قرضے پر قابو پانے میں حکومت ناکام ہو گئی، قرض ایک بار پھر 2012 کی سطح پر پہنچ گیا، اس کے ذمہ سرکاری ونجی پاور پلانٹس کے 401ارب روپے واجب الادا ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق گردشی قرضوں کی مد میں وفاقی حکومت کے ذمہ نجی اور سرکاری پاور پلانٹس کے 401ارب روپے واجب الادا ہیں ،جس میں سے 290ارب روپے سرکاری ونجی پاور کمپنیوں کے ، 110ارب درآمد ی ومقامی گیس اور تیل کمپنیوں کے واجب الادا ہے ۔سرکاری اور نجی پاور پلانٹس کے 290 ارب روپے میں سے 237ارب آئی پی پیز کے جبکہ باقی 53ارب روپے واپڈا ، درآمدی بجلی اور این ٹی ڈی سی کے ہیں ۔ذرائع کے مطابق 290ارب روپے کے گردشی قرضوں میں پاور سیکٹر کا خالص قرض 220 ارب روپے ہے ، باقی رقم سود کی ادائیگی اور کیپسٹی چارجز کی مد میں ہے ۔ سود، کیپسٹی چارجز اور ٹیکسوں کی مد میں مختلف مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ایندھن فراہمی یا اور دیگر وجوہات کی باعث آئی پی پیز کی بندش پر کیپسٹی چارجز کی مد میں چارسال کے دوران انہیں 72ارب روپے کی ادائیگی کی گئی جوکہ معاہدے کے تحت وفاقی حکومت ادا کرنے کی پابند ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق سودکے 88 ، کیپسٹی چارجز کے 72 ، ٹیکسوں کے 108ارب کا معاملہ عدالتوں میں ہے ۔ واضح رہے حکومت نے جون 2013میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نجی اور سرکاری پاور کمپنیو ں کو 480ارب روپے کی رقم ادا کی جو ابھی تک مختلف کمیٹیوں میں زیر تفتیش ہے ۔