بیرون ملک پاکستانی آم کی مانگ اور برآمدات میں اضافہ

محکمہ زراعت پنجاب ملتان کے ترجمان کے مطابق یورپی یونین کے ممالک نے آم کے جو معیار متعارف کرائے تھے ہمارے باغبان اور برآمد کنندگان ان پر پورا اترنے کی کامیاب کوشش کررہے ہیں جس کی بدولت بیرون ملک پاکستانی آم کی مانگ اور برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگرچہ پھل کی مکھی کے حملہ کی وجہ سے آم کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے لیکن حکومت پنجاب نے اس مسئلہ پر خصوصی توجہ دی ہے اور خطیر رقم سے آم کے پیداواری اضلاع میں غیر روایتی طریقوں سے پھل کی مکھی کے تدارک کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ ترجمان کے مطابق کاشتکاروں کو خصوصی مہم کے ذریعے پھل کی مکھی کے تدارک کے طریقوں سے آگاہ کیا جارہا ہے اور ان کی فنی تربیت بھی جاری ہے جس سے صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ آم کے باغبانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت پنجاب نے پیداواری مقابلہ جات آم 2017-18 پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ضلع اور صوبائی سطح پر زیادہ پیداوار لینے والے باغبانوں کو لاکھوں روپے کی زرعی مشینری کے انعامات دیئے جائیں گے۔ پاکستان دنیا میں آم پیدا کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے۔ ملک کے موسمی حالات اور آب و ہوا آم کی پیداوار کیلئے انتہائی موزوں ہیں۔ پاکستانی آم کو اعلیٰ معیار اور ذائقہ کی وجہ سے بیرون ملک بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اگر ملک میں آم کی پیداوار میں اضافہ اور اس کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے تو بیرون ملک آم اور اس سے بننے والی مصنوعات کی برآمد میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ ماضی میں ملکی زرعی برآمدات کا زیادہ تر انحصار چاول، کپاس اور اس کی مصنوعات پر رہا ہے۔ اب پھلوں کی برآمدات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں انواع و اقسام کے پھل اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی منڈیوں کی مانگ کے مطابق اگر ان پھلوں اور سبزیوں کے معیار کو بہتر بنایا جائے تو ان کی برآمدات میں اضافہ کی کافی گنجائش موجود ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کے بعد از برداشت نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں جن کو کم کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی کاشت سے لے کر ان کی برداشت، نقل و حمل، سنبھال، پراسسنگ، ویلیو ایڈیشن اور سٹوریج جیسے امور کے بارے میں کاشتکاروں کو جدید سفارشات سے آگاہ کررہاہے۔ امید ہے کہ ان کوششوں کے نتیجہ میں فصلوں بالخصوص پھلوں اور سبزیوں کے پیداواری معیار میں بہتری آئے گی اور زرعی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔