Get Adobe Flash player

تجارتی خسارے پر قابو پانے کے حکومتی دعوے پورے نہیں ہوسکے

تجارتی خسارے پر قابو پانے، برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی لانے کے حکومتی دعوے پورے نہیں ہوسکے ہیں۔رواں مالی سال کے پہلے 11 کے دوران تجارتی خسارہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 30ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 21ارب 10کروڑ 70لاکھ ڈالر تھا، اسی طرح برآمدات میں رواں مالی سال کے پہلے 11 میں گزشتہ سال کے اسی مدت کے مقابلے میں3.13فیصد کمی اور درآمدات میں 20.60 فیصد اضافہ ہو گیا، جولائی تا مئی کے دوران برآمدات کا حجم 18 ارب 54 کروڑ 10لاکھ ڈالر رہا جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 19ارب 14کروڑ ڈالر تھا۔پی بی ایس) کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں درآمدات 48ارب 53کروڑ 90لاکھ ڈالر رہیں ۔جو گزشتہ سال اسی مدت میں 40ارب 24کروڑ 70لاکھ ڈالر تھیں۔ پی بی ایس کے مطابق اپریل کے مقابلے میں مئی 2017 میں برآمدات میں۔ 10فیصد کمی ہوگئی اور درآمدات میں 1.88فیصد اضافہ ہوگیا، اپریل میں برآمدات 1ارب 80کروڑ 50لاکھ ڈالر اور مئی میں کم ہوکر 1ارب 62کروڑ 70لاکھ ڈالر رہیں، اسی طرح مئی 2016کے مقابلے میں مئی 2017 میں برآمدات میں11فیصد کمی اور درآمدات میں 28فیصد اضافہ ہوگیا، گزشتہ ماہ تجارتی خسارہ8.52 فیصد کے اضافے سے 3ارب46 کروڑ50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔