جاپان نے آم کی پراسیسنگ کیلئے پلانٹ لگانے پر آمادگی ظاہر کر دی

جاپان نے پاکستانی آم کی پراسیسنگ کیلئے کراچی پورٹ پر دنیا کا جدید ترین پلانٹ لگانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے جہاں کروڑوں روپے کی لاگت سے سٹیٹ آف دی آرٹ پلانٹ نصب کیاجائیگا جس کیلئے مناسب جگہ کی تلاش شروع کردی گئی ہے اور جگہ ملتے ہی پلانٹ کی تنصیب ہنگامی بنیادوں پر شروع کردی جائے گی تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کی آم کی برآمدات بڑھانے کے ساتھ ساتھ جاپان کو بھی زیادہ سے زیادہ پاکستانی آم برآمد کیاجاسکے۔ایوان صنعت وتجارت فیصل آبادکے دورہ کے دوران جاپانی سفیر مسٹر ہیروشی انوماتانے کہا کہ وہ پاکستان میں جاپانی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ پاکستانی تاجروں کو جاپانی منڈیوں تک رسائی کیلئے تمام تر سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستانی آم کی تعریف کی اور کہا کہ جاپانی منڈیوں میں اس پھل کی بہت طلب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاپان میں پاکستان کے خشک پھلوں کی بھی کافی مانگ ہے اور اس وقت جائیکا کے تعاون سے خشک خوبانی کی برآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے دوسرے پھلوں کے علاوہ سبزیوں کی برآمدات کیلئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے اور جاپان کی کئی تجارتی فرموں نے لاہور اور کراچی میں اپنے دفاتر بھی قائم کئے ہیں۔ اس موقع پر فیصل آباد چیمبر کے صدر انجینئر سہیل بن رشید نے جاپان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے بارے میں اعدادوشمارکا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جاپان نے پاکستان کی ترقی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے والے ملکوں میں جاپان بھی ساتویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے جاپان کی طرف سے فیصل آباد میں فراہمی آب اور صحت کے شعبہ میں امداد پر جاپانی حکومت اور جاپانی سفیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ فیصل آباد چیمبر اور جائیکا کے تعاون سے مزید رفاعی منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ٹیکسٹائل مشینری سے متعلق جاپانی وفد کے دورہ کا ذکر کیا اور بتایا کہ لاہور اور کراچی کے برعکس ان کا فیصل آباد کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ۔انہوںنے کہا کہ طویل مندے کی وجہ سے فیصل آبادکے ٹیکسٹائل ادارے بحرانی صورتحال سے دوچار ہیںجبکہ چین حال میں ہی فیصل آباد کی ایک کمپنی کے اشتراک سے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف 28 مئی کو ایم تھری انڈسٹریل سٹیٹ میں اس مشترکہ منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں جاپانی کمپنیاں بھی مشترکہ منصوبے شروع کر سکتی ہیں کیونکہ اب توانائی کے مسٔلے پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔