رواں سال پاکستان آموں کی برآمدسے60 ارب روپے کمائے گا

پاکستان رواں سال کے دوران آموں کی برآمدکے ذریعے60 ارب روپے کمائے گا،بھارتی آموں پر پابندی لگنے کے بعد رواں سال پاکستانی آم بلا مقابلہ اب یورپی منڈی میں راج کرنے کو تیار ہے، جبکہ اگلے ماہ جون میں یورپی ممالک کو پاکستانی آموں کی برآمد شروع ہو جائیگی۔تفصیلات کے مطابق بھارتی آم کی یورپی منڈیوں میں پابندی کا فائدہ بھی براہ راست پاکستان کو ملنے کا امکان ہے۔پاکستان آم پیدا کرنیوالا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ گذشتہ سال ملک میں 16 لاکھ ٹن آم کی پیداوار ہوئی جس میں سے ایک لاکھ 25 ہزار ٹن برآمد کردیا گیا، جس کی مالیت 50 کروڑ ڈالر تھی، اس سال ملک میں 18 لاکھ ٹن کی ریکارڈ پیداوار متوقع ہے، جبکہ آم کی برآمدات کا ہدف 1 لاکھ 50 ہزار ٹن رکھا گیا ہے۔پاکستانی 7 اقسام کے آم امریکا، آسٹریلیا اور عرب ممالک سمیت 15 ممالک کو برآمد کئے جاتے رہے ہیں جبکہ اس سال نیوزی لینڈ، جنوبی افریقا کی نئی مارکیٹیں بھی دریافت کی گئی ہیں۔ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 24 ہزار ٹن آم یورپی خطے کو فروخت کیا گیا تھا۔ حکومت نے 25 مئی سے آم کی برآمدات شروع کرنی کی اجازت دی ہے اور رواں سیزن اس کا حجم بڑھ جانے کی خاصی امید ہے۔پاکستان سے یورپ کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، مشرق وسطی کو سالانہ 5 کروڑ ڈالر مالیت کا آم فروخت کیا جاتا ہے۔پھلوںکے ایکسپورٹرز کے ترجمان وحید احمد کا کہنا ہے کہ رواں سیزن کے لیے اب تک پی آئی اے نے کرایوں کا تعین نہیں کیا گیا ہے،ایکسپورٹرز عموما سودے رکھنے کے باوجود پی آئی آے کی سست روی کے باعث مال برآمد کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔