Get Adobe Flash player

یورپی یونین کو پاکستانی آم پر پابندی کا موقع نہیں دینگے، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ

وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ ایکسپورٹ میں کمی ہوجائے لیکن یورپی یونین کو پاکستانی آم پر پابندی لگانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔یورپی یونین کو فروٹ فلائی سے پاک آم کی برآمد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے گئے ہیں، یورپ کو ایکسپورٹ کرنے کے خواہش مند سخت ترین قرنطینہ جانچ کے لیے تیار رہیں، ملک میں نیشنل سیڈز اتھارٹی قائم کی جائے گی، پاکستان میں بیج تیار کرنے والی عالمی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرنے اور عالمی معیار کے بیج مہیا کرنے کے لیے ترمیمی بل جلد قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یو این آئی ڈی او (یونیڈو) کے ٹی آرٹی اے پروگرام اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے ملتان میں آم کے کاشت کاروں اور ایکسپورٹرز کیلیے آگہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سیمینار سے پی ایف وی اے کے چیئرمین عبدالمالک، کو چیئرمین وحید احمد، پنجاب کے پارلیمانی سیکریٹری ایگری کلچر رانا اعجاز احمد نون، ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر مبارک، یواین آئی ڈی کے نمائندے کٹ چین نے بھی خطاب کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیح زراعت کے شعبے کی ترقی ہے، کابینہ نے سیڈ ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے، اسی طرح آئندہ اجلاس میں پیٹنٹ ایکٹ کا ترمیمی بل پیش کیا جائے گا جبکہ نیشنل سیڈ اتھارٹی کے قیام کے لیے مسودہ قانون بھی کابینہ کی منظوری سے جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، ان اقدامات کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیاری کی بیج بنانے والی کمپنیاں سرمایہ کاری کر سکیں گی اور ان کے کاروبار کو تحفظ حاصل ہو گا۔