Get Adobe Flash player

موریاں پرائمری گرلز سکول تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا،فنڈز میں خردبرد،طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ

تعلیم عام کرنے کے حکومتی دعوے ،وفاقی حکومت کے تعلیم عام کرنے کے تمام تر دعوی دھرے کے دھرے رہ گئے وفاقی دارالحکومت میں واقع موریاں کا گرلز پرائمری سکول کی طالبات کا مستقبل تازریک ہونے کا خدشہ سکول کے لاکھوں کے فنڈ خورد برد 36طالبات میں سے صرف 2طالبات کا پاس ہونا ٹیچروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے مذکورہ سکول قومی خزانے پر بوجھ کے سواء کچھ نہیں سابقہ ہیڈ ماسٹر شاہدہ بخاری جو عرصہ دراز سے اسی سکول میں تعینات رہیں نے سکول کو باپ کی جاگیر سمجھ کر سب لوٹ لیا اوراسکو سابقہ ای او بشیر آرائیں کی مکمل سپورٹ بھی حال تھی موجودہ پرنسپل کو تعینات ہوئے ایک ماہ کا عرصہ ہوگیا اور ان کا کہنا تھا کہ سکول تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور چوتھی کلاس کی طالبات کو الف ب پڑھارہی ہوں میڈیا کو نشاندہی پر اے  ای او غلام مصطفی قریشی نے پردہ چاک ہونے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور سابقہ عہدیداران اور ٹیچروں کی کرپشن کے حوالے سے منہ کھولنے  سے ٹیچروں کو منع بھی کردیا پانچ سو کی تعداد سے شروع ہونے والا گرلز سکول مسائلستان کا گڑھ بن چکا ہے اور اس میں طالبات کی تعداد صرف 128رہ گئی ہیں جو تعلیم عام کرنے کے دعویداروں کی قلعی کھول رہی ہیں اور سکول اس وقت صرف اور صرف قومی خزانے  پر بوجھ بن چکا ہے اور عرصہ دراز سے سکول پر شاہدہ بخاری جیسے  مفاد پرست لوگ قابض رہے اور انہوں نے سکول کو مکمل طور پر تباہ کردیا میڈیاکی نشاندہی پر کرپشن کے بادشاہوں میں کھبلی مچ گئی میڈیا رپورٹ کے مطابق سکول کو تباہ کرنے والے کرداروں کو بے نقاب کرنے اور سکول  کی ہونہار طالبات کے مستقبل تباہ کرنے والوں کا 26سالہ احتساب ہونا چاہئے کہ سخت سے سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور قومی خزانہ شیرمادر سمجھ کر ہڑپ کرنے والوں سے سکول کی لوٹی ہوئی رقم دوبارہ برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے یاد رہے کہ اے ای او غلام مصطفی قریشی کو جب پتہ چلا کہ میڈیا نے ہماری چور بازاری کا پردہ چاک کردیا ہے تو انہوں نے سخت ناراضگی کا بھی اظہار کیا حکومت کوچاہئے کہ محکمہ تعلیم سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ کرکے طالبات کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جائے۔