Get Adobe Flash player

راولپنڈی ،بارشوں سے تباہی کا اغاز ،انتظامیہ کے نمائشی اقدامات،واسا کے ارباب اختیار سیاسی مداری بن گئے

 راولپنڈی میں حالیہ مون سون کی طوفانی بارش نے تباہی مچا دی نالہ لئی بلند تریں سطح پر پہنچ گی راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں پانی گلیوں سڑکوں اور گھروں میں داخل ہوگیا لوگوں کا قیمتی گھریلو سامان سیلابی ریلے کی نذر ہوگیا اگر واسا اور البراق کے ارباب اختیار مون سون کی بارشوں کے آغاز سے قبل شہر کے چھوٹے بڑے نالوں کی عملا صفائی کرتے بند گٹروں کو کھول دیا جاتا تو شہری اتنے بڑے نقصان سے بچ سکتے تھے البراق کے پاس سینٹری ورکرز کی تعداد سینکڑوں میںہے اور وہ پرکشش تنخوائیں بھی وصول کر رہے ہیں البراق کے قیام سے اب تک یہی طریقہ کار چلا آرہا ہے شور زیادہ مچایا جاتا ہے فائلوں کا پیٹ بھرا جاتا ہے اور عملہ صفائی اپنی اپنی یونین کونسلز سے غائب رہتا ہے انکے سپر وزئزر ماہانہ بھتہ لے کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یہی حال واسا کے ارباب اختیار کا ہے سیاسی حلقوں میں پی ٹی آئی میںشمولیت کی افواہیں پھیلا کر سیاسی رشوت کے طور پر واسا کی چئیر مین شپ حاصل کر نے والے شہر میں خیر مقدمی بینرز آویزان کروا کر بہت خوش ہیں انہیں شہریوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ایم ڈی واسا تو بیور کریٹ ہیں وہ شہر کا دورہ کر نے کے بجائے دفتر میں بیٹھ کر اپنے ماتحتوں پر حکم چلانے کے ماہر جانے جاتے ہیں مئیر راولپنڈی نے متاثرہ علاقوںکا دورہ کر نے کی زحمت تک گواراہ تک نہیں کی شیخ رشید احمد جو کہ اس حلقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں وہ فورا متاثرہ علاقوں میں پہنچے یہی ان کا کمال ہے باقی سیاسی جماعتوں کے لیڈران تو الیکشن کا بگل بجتے ہی ان گلیوں میں منڈالاتے نظر آئیں گئے سیلابی ریلہ تو گذر گیا اب ان علاقوں سے پانی کون نکالے گا واسا کے پاس جدید مشینری موجود ہے اگر بروقت بارشوں کا پانی نشیبی علاقوں سے نہ نکالا گیاتو وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ ہے اس سلسلے میں سب سے اہم جو مسئلہ ہے کہ نالہ لئی کے اطراف میں رہنے والوں سے جگہ خالی کروائی جائے تاکہ آئندہ لوگوںکی قیمتی جانیں اور سامان بچ سکے محکمہ ہیلتھ ڈینگی اور مچھروں سے بچاؤ کے لئے سروے ٹیمیں بیجھے واسا اور البراق جنگی بنیادوں پر ایک بار پھر نالوں اور گٹرون کی صفائی یقینی بنائے تاکہ آئندہ آنے والی موسلادھار بارش کا پانی نشیبی علاقوں سے گذر جائے گھروں میں داخل نہ ہو مسئلہ یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون ڈالے گا اعلی گریڈوں اور پر کشش مراعات حاصل کر نے والے افسران بالا کو غریب عوام کے مسائل سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے وہ اے سی والے دفاتر سرکاری بنگلوں اور سرکاری گاڑیوں میں عیش وعشرت میں مصروف ہیں بیورو کریسی کا قبلہ کون درست کرے گا یہاں کا آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے ۔