Get Adobe Flash player

نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے فیصلہ پرجگہ جگہ جشن

عمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق کی طرف سے دائر شدہ پا نا ما کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخ ساز اور نواز شریف کو تا حیات نااہل قرار دینے کے فیصلہ پر جھنگ میں جگہ جگہ جشن منایا گیا اور پی ٹی ١ئی ، پی پی پی ، پاکستان عوامی تحریک، منہاج القر١ن ، جماعت اسلامی ، عوامی مسلم لیگ، اہلسنت و الجماعت پاکستان اور دیگر تنظیموں سمیت مختلف مکاتب فکر کے افراد نے ہزاروں کلوگرام مٹھائی تقسیم کی اورگڈ گورننس کی ١ڑ میں بیڈ گورننس کی بدترین روایات کو فروغ دینے والوں کا بوریا بستر گول ہو نے پر زبردست خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کرپٹ بیوروکریٹس کا بھی احتساب کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے میرٹ سے ہٹ کر اہم ترین انتظامی و سیاسی عہدوں پر تعینات افسران کو ہٹا کر فوری طور پر میرٹ پر غیر جانبدار، ایماندار افسران تعینات کرنے کی اپیل بھی کی ہے ۔دوسری جانب عوام الناس نے ١ئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو نشان عبرت بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ کا اعلان ہو تے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں،دوکانوں، کاروباری مراکز سے باہر نکل ١ ئے۔انہوں نے ڈھول کی تھاپ پربھنگڑے ڈالے ، مٹھائیاں تقسیم کیں اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے رہے۔اس موقع پر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے دفاتر میں زبردست گہما گہمی رہی اور ان جماعتوں کے عہدیداران و ممبران کا مسلم لیگ (ن) کے خلاف جوش و خروش دیدنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف شریف برادران ملک میں با لعموم اور پنجاب میں بالخصوص گڈ گورننس کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے مگر دوسری جانب عملی طور پر گڈ گورننس کا جنازہ نکال دیا گیا۔ صوبائی، ڈویژنل، ضلعی، تحصیل سطح پر چن چن کر منظور نظر، کرپٹ، جونیئر، نا اہل افسران کو اہم ترین عہدوں پر نہ صرف تعینات کیا گیا بلکہ ان کرپٹ افسران کے خلاف کرپشن کی بیشمار شکایات کے باوجود انکے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کرنیکی پالیسی بھی اپنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے ایما ء پر میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئیںاور اربوں روپے کی تعمیراتی و ترقیاتی سکیموں میں وسیع پیمانے پر بد عنوانیاں و بے ضابطگیاں کرتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں اور اپنے فرنٹ مینز کو نوازا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکو مت نے ڈسٹرکٹ زکوٰة و عشر کمیٹیوں اور بیت المال کمیٹیوں کو بھی نہیں بخشا بلکہ چن چن کر ان اداروں میں مخصوص شہرت کے حامل اپنی ہوم کیبنٹ سے تعلق رکھنے والے منظور نظر افراد کو تعینات کیا گیا جنہوں نے اپنے فرائض ایمانداری و فرض شناسی سے سر انجام دینے کی بجائے ارکان اسمبلی اور لیگی کارکنان کو نوازنے کی جانب توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال نے بھی مسلم لیگ (ن) کے چہرے سے نقاب الٹ دیا۔ بیشمار سہولیات کے باوجود مسلم لیگی ارکان اسمبلی کی بیجا مداخلت نے سرکاری اداروں کا بیڑہ غرق کردیا حتیٰ کہ تھانوں پر حملے کرکے ملزم چھڑانے والے با اثر مسلم لیگی افراد اور ارکان اسمبلی کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔جمعہ کے روز جماعت اسلامی کی طرف سے بھی پانامہ کیس کے تاریخ ساز فیصلے پر یوم تشکر منایا گیا جبکہ انہوں نے ١ج بھی یوم عزم منانے کا اعلان کیا ہے جس میں مطالبہ کیا جائیگا کہ جن سا ڑھے چار سو سے زائد دیگر افراد کے نام بھی پانامہ لیکس میں ہیں انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لاتے ہوئے نشان عبرت بنادیاجائے۔انکا کہنا تھا کہ شریف برادران نے صرف اور صرف اپنے اہل خانہ، قریبی رشتہ داروں، عزیز و اقارب، کچن کیبنٹ کے ارکان ،دوست احباب کو نوازنے کو ترجیح دی، عوامی ریلیف کی بجائے اربوں کھربوں روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ کھربوں روپے کے بلاجواز مہنگے قرضے لیکر قوم کے بچے بچے کو مقروض کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین اور میٹرو بسز جیسے مہنگے اور بلاجواز منصوبے شروع کرکے قومی خزانہ کا نا جا ئز و بے دریغ استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے لیکن نا اہل بیوروکریسی اور مسلم لیگی حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی پروردہ کرپٹ بیوروکریسی کو فوری تبدیل کیا جائے اور بے رحم احتساب کیلئے شاندار بے داغ شہرت کے حامل سپریم کورٹ و ہائی کورٹ ججز پر مشتمل نیا احتسابی ادارہ قائم کیا جائے تاکہ بے رحم احتساب کے ذریعے ملک کو کرپشن سے پاک کرکے حقیقی معنوں میں فلا حی اسلامی ریاست بنایا جاسکے۔دوسری جانب ضلع جھنگ کے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، چیئرمین ضلع کونسل، چیئرمینز میونسپل کمیٹیز،چیئرمینز ضلعی زکوٰة و عشر کمیٹیز، چیئرمینز بیت المال کمیٹیز وغیرہ کا تعلق بر سر اقتدار مسلم لیگ (ن) سے ہونے کے باوجود کوئی احتجاج نظر نہیں ١یا۔