Get Adobe Flash player

کیا انتخابات قبل از وقت ہونگے؟کیا فوج اقتدار پر قبضہ کریگی،عالمی تبصرے

پاناما لیکس کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے کی خبر کو عالمی میڈیا نے اپنی ویب سائٹس پر خاص جگہ دی، مختلف میڈیا اداروں کی ویب سائٹ پر اس خبر کو کئی انداز سے شائع کیا گیا۔بھارتی نیوز ویب سائٹ 'ہندوستان ٹائمز' نے اپنی ویب سائٹ پر نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے خبر کی ہیڈلائن میں لکھا، "وزیراعظم پاکستان نواز شریف نااہل قرار: اب کیا ہوگا؟"خبر کی تفصیلات میں نااہلی کے بعد کی ممکنہ صورتحال پر روشنی ڈالی گئی کہ آیا عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا جاسکتا ہے؟، کیا انتخابات قبل از وقت ہوں گے؟ اور آخر میں یہ کہ کیا فوج دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لے گی؟ جبکہ اسی حوالے سے دوسری خبر کی ہیڈ لائن میں لکھا تھا کہ ممکنہ طور پر عہدے پر نواز شریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی لیں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے اپنی ویب سائٹ پر شائع خبر میں لکھا کہ پاکستان کے کسی بھی سویلین وزیراعظم نے پانچ سالہ مدت پوری نہیں کی، مزید تفصیلات میں ایک جگہ یہ لکھا گیا کہ وزارت عظمی کے لیے ابھی تک تو کوئی نام سامنے نہیں آیا لیکن نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف کو سب سے طاقتور امیدوار دیکھا جا رہا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک عہدے پر موجود وزیراعظم کو عدالتی کارروائی کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے، ان کی وزارت عظمی کے دور میں ملک میں اقتصادی ترقی ہوئی اور زبردست خارجہ پالیسی کے تحت چین کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم ہوئے اور سی پیک منصوبہ تشکیل دیا گیا۔امریکی خبر رساں ادارے، وائس آف امریکا نے لکھا کہ، نواز شریف کے مطابق انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا جبکہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اپنی خبر میں لکھا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو عہدے سے نااہل کرتے ہوئے ان کے خلاف مزید تحقیقات کا کام نیب کے سپرد کردیا ہے، قومی احتساب بیورو (نیب) زیر تفتیش افراد کو گرفتار کرنے اور ان پر فوجداری الزامات عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ مسلم لیگ(ن) نے ابھی تک وزارت عظمی کے عہدے کے لیے کوئی نام واضح نہیں کیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف بطور وزیراعظم اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے، جس کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی۔