Get Adobe Flash player

جڑواں شہروں کے ٹرانسپورٹروں کی من مانیاں نامکمل روٹس،زائد کرایہ کی وصولی ،مسافر خوار

جڑواں شہروں کے ٹرانسپورٹروں نے عوام کے ناک میں دم کردیا زائد کرایہ کی وصولی روٹ نامکمل انتظامیہ سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگی مسافر خوار کوئی پرسان حال نہیں وارڈن بھی وقتی طور پر چالان کرکے خاموش ہو جاتے ہیں تفصیلات کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد کھنہ پل سے اسلام آباد روات سے اسلام آباد اور بہارہ کہو سے اسلام آباد کی طرف چلنے والی ٹیوٹا ہائی ایس مالکان نے انت مچا رکھی ہے اور مسافروں کو ذلیل و خوار کیا جاتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹر حضرات روٹ مکمل نہیں کرتے اور سٹاپ ٹو سٹاپ مسافروں کو بٹھایا جاتا ہے فرض کیا کھنہ پل سے 111 نمبر روٹ کے ٹیوٹا ڈرائیور کمپلیکس کی سواری نہیں بٹھاتے کھنہ پل سے فیض آباد کی آواز لگا کر فیض آباد میں ہی مسافروں کو اتار کر پھر گاڑی کو مسافروں سے بھر کر آگے کمپلیکس کی سواریوں کو بٹھایا جاتا ہے اور ٹیوٹا مالکان اور ڈرائیوروں نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر عوام کو تنگ کرنا معمول بنا لیا اور اگر کوئی شہری اعتراض کرے تو اتھرے کنڈیکٹر ڈرائیور بدتمیزی پر اتر آتے ہیں راولپنڈی سے راجہ بازار جانے والی سوزوکیوں کے ڈرائیوروں کی فرنٹ سیٹ پر 2،2 لیڈیز بٹھا کر فحش حرکتیں بھی کی جاتی ہیں لیکن ان کے خلاف آج تک کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور مسافروں کو گاڑیوں میں بھینس بکریوں کی طرح ٹھونسا جانا معمول بن گیا اساس رپورٹ کے مطابق اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ فوری طور پر نوٹس لیں اور روٹ مکمل نہ کرنے والی گاڑیوں اور سوزوکیوں کی فرنٹ سیٹ پر ڈبل سواری بٹھانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور قانون کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف قانونی روٹ پرمٹ فوری طور پر منسوخ کئے جائیں تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔