Get Adobe Flash player

نواز شریف کو اقامہ پر نہیں بلکہ زائد اثاثے رکھنے پر نااہل کیا گیا،صفدر عباسی

پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے صدر صفدر عباسی اور ناہید خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا پانامہ کے حوالے سے فیصلہ کرنے پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں آئین کے آرٹیکل 62,63کو نکالا جا رہا تھا تو اس وقت پی ٹی آئی اور ن لیگ نے مخالفت کی تھی آج وزیراعظم کی نا اہلی کی بنیادی وجہ ہی 62اور63بنا ہے۔ ن لیگ کی طرف سے مسلسل جھوٹ بولا جا رہا  ہے کہ وزیراعظم کو پانامہ پر نہیں بلکہ اقامہ پر نا اہل کیا گیا ہے جبکہ حقیقت میں ان کو زائد اثاثے رکھنے پر نا اہل کیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز این اے120کے ضمنی انتخابات میں حصہ لے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ  سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ محترم جج صاحبان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں کہ پاکستان کی ستر سالہ سیاسی تاریخ میں کسی موجودہ وزیراعظم کو احتسابی عمل سے گذرنا پڑا ہے اس کے ساتھ ہی  جے آئی ٹی کے ان چھ ممبران کی جرات اور کام کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں  کہ انہوں نے بلا خوف و خطر وزیراعظم اور انکے خاندان کے خلاف شفاف تحقیقات کر کے پانی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کو پیش کی۔ جبکہ اس سے پہلے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ناروا سلوک عدالتی تاریخ انہوں نے کہا کہ حقیقی طور پر رشوت ستانی نے پاکستانی معاشرے کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد ہی رشت ستانی ایک کینسر کی طرح معاشرے میں پھیلتی چلی گئی اور عوامی عہدوں کو ذاتی منعفت کے لئے استعمال کیا گیا اور 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد یہ معاشرتی زندگی کا مستقل حصہ بنتی چلی گئی۔ انتہا درجے کی رشوت ستانی نے پاکستانی معاشرتی سسٹم اور اخلاقی قدروں کو پستی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ غربت اور بیروزگاری نے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں کو ماؤف کر دیا ہے اور ان میں سے بہت انتہا پسندی کی طرف مائل ہو گئے ہیں یا معاشرتی برائیوں کا سبب بن رہے ہیں۔اقتدار پر قابض چند با اثر لوگ اور احتساب کا دوہرا  نظام رشوت ستانی کو فروغ دے رہا ہے اور یہ با اثر لوگ قانون کی پکڑ سے بچ نکلنے  میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ رشوت ستانی کیخلاف مہم اس وقت ہی کامیاب ہو سکتی ہے جب ہم اپنے طرز حکمرانی میں اصلاحات لائی اور بلا تفریق احتسابی نظام قائم ہو جس میں تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حکمران ، نوکر شاہی اور عدلیہ اور مسلح افواج کے لوگ شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وزیراعظم کی نا اہلی اور انکے خلاف مقدمات قائم کرنے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ضروری ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں خصوصاً زرداری پارٹی اور تحریک انصاف کے اندر بیٹھے ہوئے ان لوگوں جن پر رشوت ستانی کے الزامات ہے کارروائی کو آگے بڑھای اجائے۔ ہم خود ہر قسم کے احتسابی عمل سے گزرنے کے لئے تیار ہیں۔ سپریم  جوڈیشل کاؤنسل فوری طور پر ان ججز حضرات کیخلاف کارروائی کرے جن پر مختلف الزامات ہیں۔ وہ افسران جو مختلف محکموں جس میں  ایف بی آر ، ایف ائی اے ، نیب ، ایس بی پی، ایس ای سی پی شامل ہیں اور رشوت ستانی کے زمرے میں آتے ہیں انکے خلاف بھی کارروائی کو تیز کی اجائے۔ ہم جنرل راحیل شریف کی طرف سے مسلح افواج کے اندر شروع کئے گئے احتسابی عمل کو خوش آئند سمجھتے ہوئے مسلح افواج کی موجودہ قیادت سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ادارتی عمل کے ذریعے اس عمل کو جاری رکھیں گے۔ چونکہ جمہوری نظام میں انتخابات اقتدار پر پہنچنے کا ایک مسلمہ ذریعہ ہے اس لئے انتہائی ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو نظریاتی اور جمہوری انداز میں منظم کریں اور جماعتوں کے اندر خاندانی وارثوں کا خاتمہ کیا جائے۔ آج سیاسی ورکر اپنی اپنی جماعتوں کا غلام بنا ہوا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی ورکر پانی جماعتوں کے اندر اصلاحات کی آواز کو بلند کریں ورنہ یہ سیاسی اور جمہوری نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی NA-120کے ضمنی انتخابات میں حصہ لے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پنجاب اور خصوصاً لاہور کا ووٹ بینکPML (N)اورPTIکی میراث نہیں ہے اور اس کے لئے بھٹو  شہید کے سیاسی فلسفے اور محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاسی وژن کے مطباق ایک حقیقی سیاسی ورکر کو سامنے لایا جائے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ زرداری پارٹی نے پنجاب   اور لاہور کی سیاست کو خیرباد کہہ دیا ہے یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، صوبائی دارالحکومت اور تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹر عوامی مسائل خصوصاً رشوت ستانی ، بیروزگاری، تعلیم اور صحت کے مسائل اور سیاسی جماعتوں میں نظریاتی اور جمہوری عمل کو جاری کرنے کے لئے احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔