اسلام آباد میں ملاوٹ مافیا کے خلاف آپریشن جاری

مضر صحت اور ملاوٹ شدہ اشیائے خورد ونوش کی فروخت کسی صورت میں قابل برداشت نہیں ۔میٹرو پولیٹین کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) صحت مند اور خالص اشیاء خورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ ملاوٹ شدہ اور مظہر صحت کھانے پینے کی اشیاء کے مسئلے کو حکومت اور عوام مل کر ختم کر سکتے ہیں ۔ معاشرتی جرموں میں غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے مظہر صحت جز کو ایک جامع اور مستقل بنیادوں پر مہم کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار میئر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈ ی اے شیخ انصر عزیز نے گذشتہ پندرہ روزہ کارکردگی کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میئر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے شیخ انصر عزیز کی صدارت میں سی ڈی اے ہیڈ کوارٹرز میںمنعقد ہوا۔ اجلاس میں میٹرو پولیٹین کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔  اجلاس کے دورانمئیر اسلام آباد و چیئر مین سی ڈی اے شیخ انصر عزیز کو بتایا گیا کہ گذشتہ پندرہ روزکے دوران  خصوصی طور پر تشکیل دی گئیں ہیلتھ سروسز ڈائریکٹوریٹ کی ٹیمیں شہر بھر میں چھا پے مار کر ملا وٹ شدہ اور حفظا ن صحت کے اصولوں کے منا فی کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف کا روائیاں عمل میں لاتی رہی تاکہ معیاری اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنا یا جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس مہم کے پیش نظر ماہِ جولائی کے آخری پندرہ روز کے دوران ان ٹیموں نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں میں کا روائیاں کر کے پاکستان پبلک پیور فوڈ آرڈیننس 1969کی کے بر عکس اشیاء ِ خورد و نوش فروخت کرنے کے خلاف 100 کاروائیاں عمل میں لاتے ہوئے 28 افراد کے چالان جبکہ45افراد کو نوٹسسز بھی جاری کئے۔ علا وہ ازیں02 درجن گٹکا، 50غیر معیاری ٹوٹے ہوئے برتنوں،50 پیکٹ ون ٹو ون ، 30 لیٹر کیچپ کو قبضہ میں لے کر موقع پر تلف کر نے سمیت غیر معیاری کھانے کی اشیاء کے13 نمونے حاصل کر کے لیبارٹری میں بھجوا دیئے گئے تاکہ حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق قانونی کاروائی عمل میں لائی جا سکے۔مئیر اسلام آباد و چیئر مین سی ڈی اے نے ہیلتھ سروسز ڈائریکٹوریٹ کو ہدایت کی ہے کہ غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف شہر بھر میں کا روائیاںجاری رکھی جائیں تاکہ لوگوں کو صاف ستھری اور معیاری اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ حفظان صحت کے اصولوں اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کا روائی کی جائے اور اس ضمن میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے۔