Get Adobe Flash player

بہارہ کہو ،پولیس کانسٹیبل کی جواں سالہ بیٹی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل

تھانہ بہارہ کہو کے علاقہ میںسیری چوک میں پولیس کانسٹیبل کی جواں سالہ بیٹی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ، لڑکی کو زندہ جلا  دیاگیا، مقدمہ درج   تفصیلات کے مطابق پرویز اختر ولد شبیر محمد نے  روزنامہ اساس  سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں مکان نمبر 6 گلی نمبر 12 اظہر ٹائون سوہان اسلام آباد کامستقل رہائشی ہوں اور پی ایم ہائوس میں بطور پولیس ہیڈ کانسٹیبل تعینات ہوں میری بیٹی تنزیلہ  بی بی عمر 19 سال اپنی نانی حمیدہ  بی بی خالہ عقیلہ  بی بی اور اپنی والدہ  ناصرہ بی بی جس کو میں نے تقریباً 17 سال قبل طلاق دیدی تھی اور ناصر مشتاق کے ساتھ دوسری شادی کرلی تھی میری بیٹی مسماة  تنزیلہ  بی بی اپنی نانی اور خالہ کے پاس رہتی  تھی جو کہ بہارہ کہو سیری چوک رہائش پذیر ہیں مورخہ 30 جولائی کو جب میں صبح اپنی ڈیوٹی ختم کرکے گھر سوہان پہنچا تو میرے بھتیجے راشد نے مجھے بتایا کہ میری بیٹی تنزیلہ بی بی فوت ہو گئی ہے اطلاع پا کر میں عزیز رشتہ دار بہارہ کہو حمیدہ بی بی کے گھر پہنچے تو میری بیٹی تنزیلہ بی بی کی لاش حمیدہ بی بی کے ساتھ والے گھر ویرانے میں چارپائی پر پڑی تھی جس کا مکمل جسم جلا ہوا تھامیں نے پولیس کو اطلاع دی اور نعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے پمز ہسپتالے آیاہوں میری بیٹی تنزیلہ بی بی کو حمیدہ بی بی ،ناصرہ بی بی اور اس کے شوہر مشتاق ، عقیلہ بی بی اور اس کے شوہر دائود  نے آگ لگا کر قتل کیا ہے ان کیخلاف کارروائی  کی جائے میری آئی جی اسلام آباد سے اپیل ہے میری بیٹی کو ناحق قتل کیا گیا واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مجھے انصاف دلایا جائے میری بیٹی کو بے دردی سے جلا کر قتل کیا گیا۔