ہر چیز کا فیصلہ عدلیہ نے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو ختم کر دیں، چیئرمین سینیٹ کمیٹی

چیئرمین سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کا کہنا ہے کہ اب اگر ہر چیز کا فیصلہ عدلیہ نے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو ختم کر دیں، قوانین پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اس پر عملدر آمد بھی ہم ہی کرائیں گے۔سینیٹ کمیٹی قواعد و ضوابط و استحقاق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں این اے آر سی اسلام آباد کی 1400 ایکڑ زمین کے حوالے سے سینیٹ قائمہ کمیٹی قومی تحفظ خوراک و تحقیق کی سفارشات پر سی ڈی اے کی طرف سے عملدرآمد نہ کرنے کیخلاف سینیٹر مظفر حسین شاہ کی تحریک استحقاق کا ایجنڈا زیر بحث آیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایوان بالا میں اٹھایا گیا معاملہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تاثر روزبروز بڑھ رہا ہے کہ تاخیری ہربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ سی ڈی اے اور متعلقہ ادارے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ کمیٹی نے پلاٹ کی لیز منسوخ کیے جانے کا آرڈر واپس نہ لینے کے عمل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں وفاقی وزیرفوڈ سیکیورٹی، وزیر کیڈ، این اے آر سی، سی ڈی اے اور وزارت قانون کے حکام کوبلا کر معاملہ ہر صورت حل کرنے پر زور دیا۔سیکریٹری کیڈ نے کہاکہ معاملہ عدالت میں ہے توچیئرمین کمیٹی نے کہاکہ پارلیمنٹ تمام معاملات کو عدالتوں پر نہیں چھوڑ سکتی، عدالتوں کو اپنا کام کرنا ہے اور پارلیمنٹ کا اپنا کام ہے بلکہ حالیہ معاملے کو دیکھتے ہوئے عدلیہ کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ اب اگر ہر چیز کا فیصلہ عدلیہ نے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو ختم کر دیں، قوانین پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اس پر عملدر آمد بھی ہم ہی کرائیں گے۔