Get Adobe Flash player

اسلام آباد ،مضر صحت اور ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش کی فروخت کسی صورت میں قبول برداشت نہیں ،شیخ انصر عزیز

مضر صحت اور ملاوٹ شدہ اشیائے خورد ونوش کی فروخت کسی صورت میں قابل برداشت نہیں ۔میٹرو پولیٹین کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) صحت مند اور خالص اشیاء خورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ ملاوٹ شدہ اور مضرِ صحت کھانے پینے کی اشیاء کے مسئلے کو حکومت اور عوام مل کر ختم کر سکتے ہیں ۔ معاشرتی جرموں میں غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے مظہر صحت جز کو ایک جامع اور مستقل بنیادوں پر مہم کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار میئر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈ ی اے شیخ انصر عزیز نے گذشتہ ہفتہ کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میئر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے شیخ انصر عزیز کی صدارت میں سی ڈی اے ہیڈ کوارٹرز میںمنعقد ہوا۔ اجلاس میں میٹرو پولیٹین کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔  اجلاس کے دورانمئیر اسلام آباد و چیئر مین سی ڈی اے شیخ انصر عزیز کو بتایا گیا کہ گذشتہ ہفتہ کے دوران  خصوصی طور پر  تشکیل دی گئیں ہیلتھ سروسز ڈائریکٹوریٹ کی ٹیمیں شہر بھر میں چھا پے مار کر ملا وٹ شدہ اور حفظا ن صحت کے اصولوں کے منا فی کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف کا روائیاں عمل میں لاتی رہی تاکہ معیاری اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنا یا جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس مہم کے پیش نظر ماہِ جولائی کے آخری ہفتہ کے دوران ان ٹیموں نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں میں کا روائیاں کر کے پاکستان پبلک پیور فوڈ آرڈیننس 1969کی کے بر عکس اشیاء ِ خورد و نوش فروخت کرنے کے خلاف73 کاروائیاں عمل میں لاتے ہوئے 25 افراد کے چالان جبکہ32افراد کو نوٹسسز بھی جاری کئے۔ علا وہ ازیں119 غیر معیاری ٹوٹے ہوئے برتنوں،37 لیٹر غیر معیاری کیچپ کو قبضہ میں لے کر موقع پر تلف کیا گیا۔ علاوہ ازیں 01 ہوٹل اور نان سینٹر کو جزوی طور پر سر بمہر  کر نے سمیت غیر معیاری کھانے کی اشیاء کے11 نمونے حاصل کر کے لیبارٹری میں بھجوا دیئے گئے تاکہ حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق قانونی کاروائی عمل میں لائی جا سکے۔مئیر اسلام آباد و چیئر مین سی ڈی اے نے ہیلتھ سروسز ڈائریکٹوریٹ کو ہدایت کی ہے کہ غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف شہر بھر میں کا روائیاںجاری رکھی جائیں تاکہ لوگوں کو صاف ستھری اور معیاری اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ حفظان صحت کے اصولوں اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کا روائی کی جائے اور اس ضمن میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے۔