نجی تعلیمی اداروں سے بورڈ ٹیکس وصولی کیخلاف حکم امتناعی جاری

سول جج ومجسٹریٹ درجہ اول چوہدری وقار منصور بریارنے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں سے بورڈ ٹیکس وصولی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ٹھیکیدار کوٹیکس وصولی سے روک دیا ہے اور فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے 6جون جواب طلب کر لیا ہے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر عبد الرحیم خا ن نے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ٹھیکیدار راجہ زاہد لطیف اور اس کے عملے کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کے باہر آویزاں بورڈ لگانے پر بھاری ٹیکس وصولی کے خلاف عدالت میں درخواست دائرکی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر ٹھیکیدارکے عملہ کی طرف سے ٹیکس وصولی کیلئے دھمکیوں کا سلسلہ زور و شور سے شروع ہو چکا تھا اور کسی بھی قاعدے اور ضابطے کو خاطر میں لائے بغیر چھوٹے چھوٹے تعلیمی اداروں کو اپنے سکولوں کی دیواروں پر بورڈ آویزاں کرنے پر 90  ہزار تک کے بل تھمائے جا رہے تھے اور عدم ادائیگی پر ان کے بورڈ اکھاڑنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں حالانکہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طر ف سے جاری کردہ کنٹریکٹ میں کہیں بھی تعلیمی اداروں سے ٹیکس وصولی کا ذکر نہیں ہے اسی طرح ہر تعلیمی ادارے کو 14 روپے مربع فٹ ماہانہ کے حساب سے نوٹس دے رہے ہیں حالانکہ14 روپے مربع فٹ کا ریٹ ٹریڈ مارک کی حامل کمپنیوں اور اداروں کیلئے ہے جب کہ عام گلی محلوں میں کام کرنے والے تعلیمی ادارے بغیر ٹریڈ مارک کے آزاد حیثیت میں کام کر رہے ہیں اور ٹریڈ مارک کے بغیر رجسٹرڈ اداروں سے ٹیکس وصولی کی شرح 4 روپے فی مربع فٹ ہے۔