کیا دسمبر2014کے بعد بھی افغانستان کا مستقبل سوالیہ نشان رہے گا؟

جس طرح افغانستان میں عبداللہ عبداللہ کی کامیابی کے امکانات نمایاں ہیں اسی طرح یہ بات بھی یقینی ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان سیکورٹی معاہدہ جو اب تک صدر کرزئی کی طرف سے دستخط نہ کرنے کے باعث معلق تھا عبداللہ عبداللہ کے صدرکی حیثیت سے حلف اٹھانے کے فوری بعد اس پر دستخط کرنے سے نافذ العمل ہوجائے گا اہم بات یہ ہے کہ عبداللہ عبداللہ اپنے انتخابی جلسوں کے دوران متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت سنبھالنے کے بعد وہ اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے مذکورہ معاہدہ امریکہ کو یہ اختیار دیتاہے کہ دسمبر2014 کے بعد بھی وہ افغان فوجیوں کی تربیت سمیت بعض دیگر جواز کے تحت اپنے فوجی تعینات کرسکے گا اطلاعات کے مطابق معاہدے کی رو سے نو ہزار آٹھ سو امریکی فوجیوں کے علاوہ ترکی جرمنی اور اٹلی کے فوجی دستے بھی تعینات رہیں گے تاہم ان تینوں ممالک کے فوجی دستوں کی مجموعی تعداد دوہزار کے لگ بھگ ہوگی دسمبر2014 کے بعد افغانستان میں قیام کرنے والے آٹھ ہزار امریکی فوجی افغان فورسز کی تربیت کے فرائض سر انجام دیں گے جبکہ اٹھارہ سو کے لگ بھگ لڑاکا دستے ہوں گے جو افغانستان کے مختلف علاقوں میں ذمے داریاں سر انجام دیں گے حال ہی میں برسلز میں نیٹو کی وزراء دفاع کانفرنس میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بہت سے پہلوئوں پر غور کیاگیا ایک اہم مسئلہ یہ بھی تھا کہ ساڑھے تین لاکھ سے زائد افغان فوج کے بجٹ کا معاملہ شاید کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے بھارت جس نے پہلے ہی افغانستان کے لئے روسی ہتھیاروں کا معاہدہ کیاہے وہ افغان فوج کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی میدان میں کود سکتاہے اس طرح افغان حکومت بڑی حد تک اس کی تابع فرمان ہوسکتی ہے جس طرح ماضی میں اس نے بنگلہ دیش میں کردار ادا کیاتھا اسی طرح بھارت افغانستان میں اپنے کردار کے لئے پرتول رہاہے نیٹو کانفرنس میں اگرچہ افغان فوج کی تربیت کے معاملات زیر غور آئے لیکن اس بارے میں کوئی حکمت عملی وضع نہیں کی گئی کہ افغان فوج کے بجٹ کی ضروریات کیسے پوری کی جائیں گی پاکستان کو توقع ہے کہ نئے افغان صدر امریکہ کے ساتھ سیکورٹی معاہدہ کے بعد اس معاملے میں ترقی یافتہ ممالک سے رجوع کریں گے جبکہ اس امر کے امکانات بھی موجود ہیں کہ ستمبر میں ہونے والی نیٹو وزراء دفاع کانفرنس ان ایشو ز پر اہم فیصلے کر سکے گی ماہرین کے مطابق افغان فوج کو پانچ ارب ڈالر سالانہ درکار ہیں جبکہ افغان معیشت اس پیمانے پر فوج کی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ افغانستان کے حوالے سے اگرچہ یہ رائے مسلمہ ہے کہ یہاں ماضی کی طرح طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات نہیں ہیں لیکن اس سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ طالبان مستقل طور پر افغان حکومت کے لئے مسئلہ بنے رہیں گے افغانستان کی دشوارگزار جغرافیائی صورتحال ان کے لئے محفوظ پناہ گاہوں کی حیثیت رکھتی ہے افغانستان کی بدامنی پاکستان کے لئے بھی شدید منفی اثرات کا باعث ہوگی دونوں ملکوں کے درمیان طویل سرحد پر مکمل نگرانی کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے ایسے بہت سے پہاڑی راستے موجود ہیں جو دہشت گردوں کی آمدورفت کا ذریعہ بن سکتے ہیں گویا دونوں ملکوں کی طرف سے مستقبل میں بھی ایک دوسرے کی سرزمین سے دہشت گردوں کی آمد کے الزامات جاری رہیں گے جب تک افغانستان میں طالبان کو شریک اقتدار نہیں کیاجاتا اس وقت تک مکمل امن کے امکانات نہ ہونے کے مترادف ہیں جہاں تک افغانستان میں بھارت کی دلچسپی کا معاملہ ہے وہ بھی افغان عوام کی مدد یا ان کی تعمیر وترقی کے حوالے سے کسی نیک نیتی کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے معاملے میں اس کی بدنیتی کا نتیجہ ہے کابل میں بھارتی اثرو رسوخ میں اضافے کا مطلب مغری سرحد سے پاکستان پر دبائو بڑھانے کی پرانی بھارتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے مگر بھارت کا یہ انداز فکر بھی علاقے کے عدم استحکام کا باعث بن سکتاہے اور افغانستان کو مسلسل بدامنی اور انتشار سے دوچار کرسکتاہے امریکہ کو انخلاء سے قبل مستقبل کے ان تمام امکانات کو پیش نظر رکھنا ہوگا اور اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغانستان پھر سے کسی محاذ آرائی اور جنگ وجدل کانشانہ نہ بنے اگر اس حوالے سے درست فیصلے نہ کئے گئے تو امریکہ نے اب تک افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے جو کچھ کیاہے وہ سب ضائع ہوسکتاہے۔