نیا پاکستان خیبر پختونخواہ کے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافہ

خیبر پختونخواہ کی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اس نے صوبائی اسمبلی کے ارکان وزراء وزیر اعلیٰ کے مشیروں معاونین خصوصی اور سپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا ہے اس اضافہ کے بعد اب نیا پاکستان بنانے کی دعویدار تحریک انصاف کے وزراء اور حکومتی شخصیات کی حالت بہر صورت بہتر ہوجائے گی صوبائی وزیر اطلاعات شاہ قربان نے صوبائی کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ارکان اسمبلی اور دیگر شخصیات کی تنخواہوں میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے جس کے مطابق اب ممبر صوبائی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ دو ہزار مشیر اور معاونین خصوصی کی تنخواہ ایک لاکھ 30ہزار وزراء کی تنخواہ ایک لاکھ 80ہزار اور سپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہیں دو لاکھ تک بڑھا دی گئی ہیں۔یہ امر غور طلب ہے کہ ارکان اسمبلی اور حکومتی شخصیات کی دیگر مراعات الگ ہیں جو وہ بدستور حاصل کرتے رہیں گے جن میں سرکاری گھر گاڑیاں بجلی گیس اور ٹیلیفون کے بلز ڈرائیوروں سمیت دیگر عملے شامل ہے عوام کو اب تک یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف نے صوبے میں حکومت سنبھالنے کے بعد ایک سال کے دوران کتنے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا بدعنوانی اور گراں فروشی کا کس حد تک خاتمہ کیا صوبے کے عوام کی زندگیوں میں کس حد تک آسانیاں پیدا کیں تاہم انہیں یہ ضرور معلوم ہوگیا کہ صوبائی حکومت نے ارکان اسمبلی اور حکومتی شخصیات کو نوازنے میں کتنی فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور ان کی تنخواہوں میں کس شرح سے اضافہ کیا وہ ارکان اسمبلی جو اس حد تک مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں کہ الیکشن پر کروڑوں خرچ کرتے ہیں صوبائی حکومت نے انہیں '' مظلوم'' قرار دے کر یہ فرض کرلیا کہ وہ موجودہ مہنگائی کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس لئے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنے میں کوئی شامل نہیں کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ایک دو ارکان واقعی ایسے ہیں جو بالکل نچلے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور محض پارٹی کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرکے منتخب ہوئے ہیں لیکن اکثریتی ارکان ایسے ہیں جو بے حد مضبوط مالی حیثیت کے حامل ہیں اس لئے ان ارکان کی تنخواہوں اور وزراء و مشیروں کی تنخواہوں میں اضافے کا کوئی بھی جواز دکھائی نہیں دیتا ہم اگرچہ صوبائی حکومت سے اس اضافہ کو واپس لینے کا مطالبہ نہیں کرینگے لیکن حکومت کو صوبے کے نجی شعبہ میں کام کرنے والے ان ہزاروں کارکنوں کی طرف ضرور متوجہ کرنا چاہتے ہیں جنہیں بہت معمولی معاوضہ ملتا ہے اور جن کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوچکا ہے خیبر پختونخواہ کے وزراء اعلیٰ کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ محنت کش کی کم سے کم اجرت کو نجی شعبہ کے کارکنوں پر بھی لاگو کیا جائے۔