Get Adobe Flash player

ملک دشمنوں کے خلاف موثر کارروائی،وقت کا تقاضا

 پاک فوج رینجرز اور اے ایس ایف کے جوانوں نے مربوط حکمت عملی کے تحت کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بناکر تمام دس دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اطلاعات کے مطابق پانچ پانچ کی ٹولیوں میں دہشت گردوں کے دوگروپ اے ایس ایف کی وردی میں ملبوس کراچی کے پرانے ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہوئے نامعلوم حملہ آور جدید اسلحہ سے لیس تھے اور انہوں نے خودکش جیکٹیں بھی پہن رکھی تھیں ایئرپورٹ پر موجود اے ایس ایف کے جوانوں نے انہیں روکا اور ان فائرنگ کے جواب میں فائرنگ کی اس دوران اے ایس ایف کے پانچ اہلکار شہید ہوگئے فوری طور پر پاک فوج کے کمانڈوز اور رینجرز کے جوان بھی پرانے ایئرپورٹ کے متعلقہ علاقے میں داخل ہوگئے اور انہوں نے دہشت گردوں کو ایک علاقے میں محدود کر دیا اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا اس آپریشن کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ تین نے اپنے آپ کو اڑادیا آئی ایس پی آر کے مطابق پانچ گھنٹے کے کامیاب آپریشن کے بعد تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا کسی طیارے کو نقصان نہیں پہنچا اور ملک کے تمام اثاثے محفوظ ہیں بعض اطلاعات کے بتایاگیاہے کہ اس کارروائی کے دوران اے ایس ایف کے ارکان سمیت کل سولہ افراد شہید ہوئے ہیں اے ایس ایف کے اہلکاروں نے فوری طور پر جس جوانمردی کے ساتھ دہشت گردوں کو روکا اور ان کا مقابلہ کیا اس پر وہ یقیناً قوم کی مبارکباد کے مستحق ہیں اس کے بعد پاک فوج کے کمانڈوز رینجرز اور پولیس نے موثر حکمت عملی کے تحت کارروائی کو آگے بڑھایا اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا بتایا جاتاہے کہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد پرانے ایئرپورٹ کے اصفہانی ہینگر تک پہنچے اور انہوں نے ایک طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تاہم اے ایس ایف کے موجود اہلکاروں کی جوابی کارروائی کے باعث اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ان کی بنیادی حکمت عملی یہ تھی کہ دہشت گرد جناح ٹرمینل کے مرکزی رن وے تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوں اہم بات یہ ہے کہ دہشت گرد پرانے ایئرپورٹ کے عقبی حصے میں واقع پہلوان گوٹھ کے راستے تاروں کو کاٹ کر اندر داخل ہوئے کامیاب آپریشن کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایئرپورٹ کے قریب آبادیوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیاعینی شاہدین کے مطابق نامعلوم دہشت گرد شکل وصورت سے ازبک یا چیچن دکھائی دیتے تھے ادھر رینجرزکے ایک ترجمان کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضہ سے بھارتی ساخت کا اسلحہ برآمد ہواہے اس سے قبل مہران بیس پر حملے میں بھی اسی قسم کے راکٹ لانچر استعمال کئے گئے تھے دہشت گردوں کی عمریں بیس اور بائیس سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان نے کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے یہ کہاہے کہ اس قسم کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔اے ایس ایف کے بعض اہلکاروں کا کہناہے کہ جس طرح دہشت گردوں نے اندر داخل ہونے کے بعد مورچے قائم کئے اس کا انداز کسی پیشہ ور فوج کی طرح کا تھا بہرحال یہ بات طے ہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ دہشت گردوں کی اچانک کارروائی نہ تھی اس کے لئے ہفتوں منصوبہ بندی کی گئی ہوگی دہشت گردوں نے اے ایس ایف کی وردیاں حاصل کرنے کے بعد ملحقہ آبادیوں کا جائزہ لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ کون سا مقام ان کے اندر داخل ہونے کے لئے زیادہ موزوں ہے اور پھر انہوں نے یہ حکمت عملی طے کی کہ اصفہانی ہینگر تک پہنچنے کے بعد ان کا ہدف کیا ہوگا تاہم خدا کا شکر ہے کہ ان کے عزائم ناکام ہوئے اور وہ ہلاک کر دیئے گئے تاہم پرانے ایئرپورٹ کی سیکورٹی کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھتے ہیں مختلف ایئر پورٹس پر اس سے قبل بھی دہشت گردوں نے حملے کئے ہیں کامرہ ہویا مہران ایئربیس انہوں نے ہمیشہ ملحقہ آبادیوں کے ذریعے خاردار تاروں کو کاٹ کر اپنا راستہ بنالیاہے ماضی کے واقعات کی روشنی میں یہ ضروری تھا کہ پرانے ایئرپورٹ سے ملحقہ آبادیوں کا وقفے وقفے سے سرچ آپریشن کیاجاتا اور اس طرف ایسے فول پروف انتظامات کئے جاتے کہ کوئی اندر داخل نہ ہوسکتا لیکن بدقسمتی سے اس طرف توجہ نہ دی گئی ہم سمجھتے ہیں اس سلسلے میں ضرور تحقیقات ہونی چاہیے کہ سیکورٹی انتظامات کس کی ذمے داری تھی اور کون کون لوگ غفلت کے ذمے دار ہیں۔اس امر میں کوئی شبہ کی گنجائش نہیں کہ دہشت گردوں کا یہ حملہ ایک انداز سے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت تھی پاکستان کا کوئی دشمن ہی اس کی اہم ترین تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر سکتاہے عام دہشت گرد کو اتنے حساس معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا وہ محض نچلی سطح پر لوگوں کو ہلاک کرتا یا بعض مقامات پر دھماکے کرتاہے کالعدم تحریک طالبان کا جو بھی گروپ اس کارروائی میں ملوث ہے اس میں کسی شبے کی گنجائش نہیں کہ اس نے دشمن ملک کی ایجنسیوں کے ایماء پر اور ان کے آلہ کار کی حیثیت سے کر دار ادا کیا ہے اس لئے اب ملک دشمنوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لئے بھرپور اور موثر کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے یہی وقت اور سیکورٹی کا تقاضا بھی ہے۔