کیا بلوچستان کا امن دہشت گردوں کا مرہون منت ہے؟

بلوچستان کے علاقے تفتان میں ہوٹل پر کھڑی بس پر فائرنگ اور دستی بموں کے حملے کے نتیجے میں30افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے لیویز حکام کی اطلاع کے مطابق تفتان میں ہوٹل پر کھڑی بس کے زائرین پر نامعلوم افراد نے اچانک فائرنگ شروع کر دی اور دستی بموں سے حملے کئے لیویز کے مطابق زائرین بس سے اتر کر ہوٹل جا رہے تھے کہ اچانک دہشت گردوں نے ان پر حملہ کر دیا حملہ آوروں نے ہوٹل میں داخل ہو کر بھی فائرنگ کی۔پاک ایران بارڈر کے قریب یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی زائرین پر متعدد حملے ہو چکے ہیں کوئٹہ کے قریب ہزارہ قبیلے کے افراد پر حملوں کوبھی ان واقعات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا یوں محسوس ہوتاہے بعض کالعدم تنظیموں کے ارکان بلوچستان کے بعض علاقوں میں جب چاہتے ہیں دہشت گردی کا ارتکاب کر ڈالتے ہیں گویا صوبے کا امن ان کی مرضی ومنشاء کا مرہون منت ہے جب چاہیں امن کو تاراج کر دیں یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں درست طور پر اپنی ذمے داریاں پوری کریں اگر خفیہ ایجنسیاں متحرک اور موثر ہوں تو انہیں دہشت گردوں کے مذموم عزائم کے بارے میں قبل ازوقت معلومات حاصل ہوسکتی ہیں یہی نہیں صوبے میں ایسے دہشت گرد عناصر بھی متحرک ہیں جو پاک ایران تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مسلسل مصروف رہتے ہیں یہ صورتحال وفاقی حکومت کے لئے بھی غور طلب ہونی چاہیے اگر اس قسم کے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو صوبے میں فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی بڑھے گی اور حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے اس لئے یہ مناسب ہے کہ وزیراعظم کی صدارت میں اسلام آباد یا کوئٹہ میں اعلی سطح کا اجلاس طلب کیا جائے جس میں وزیر اعلی بلوچستان کے علاوہ مرکزی اور صوبائی خفیہ ایجنسیوں اور بلوچستان کی وزارت داخلہ کے حکام بھی شریک ہوں مجوزہ اجلاس میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے مضبوط اور مربوط حکمت عملی وضع کی جائے ان معاملات کو محض صوبائی حکومت پر نہیں چھوڑا جاسکتا کہ اس ضمن میں اس کی اب تک کی کارکردگی زیادہ موثر اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتی۔