Get Adobe Flash player

حملے کرنے والوں نے مذاکرات کا راستہ بند کر دیا

کراچی ایئرپورٹ پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے جو بیانات سامنے آئے ہیں وہ حکومت کے فیصلہ کن اقدامات کی خبر لاتے ہیں وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ اب دہشت گردوں سے ان ہی کی زبان میں بات کی جائے گی کراچی کے واقعہ میں غیر ملکی ہاتھ کی موجودگی کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا جبکہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کہتے ہیں کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ناقابل معافی جرم ہے اس کا بھرپور جواب دیاجائے گا اور دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانوں پر جواب دیں گے انہیں ایسی عبرتناک سزا دی جائے گی کہ آئندہ کوئی اس طرح کی بزدلانہ کارروائی کی جرات نہ کرسکے اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں وزیر دفاع مزید کہا کہ دہشت گردوں نے کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کر کے قومی اثاثوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بناکر ناقابل معافی جرم کیاہے جسے کسی صورت معاف نہیں کیاجاسکتا دہشت گردی میں ملوث ملزمان اور ان کی معاونت کرنے والوں کو ان کے اڈوں میںشکست دی جائے گی۔ حزب اختلاف کی دونوںبڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی دہشت گردوں کے خلاف موثر اور نتیجہ خیز آپریشن کی بات کی ہے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران شاہ محمود قریشی کا کہناتھا کہ ان کی پارٹی ملک اور معصوم شہریوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کسی بھی بامقصد فوجی آپریشن کی مخالفت نہیں کرے گی یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کی حامی بعض مذہبی جماعتوں نے کراچی ایئرپورٹ کے واقعہ پر معنی خیز خاموشی اختیار کی ہے جبکہ ایک جماعت نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی مذمت سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کا مطالبہ کیاہے ملافضل اللہ گروپ کے طالبان ہویا کسی بھی دوسرے گروپ کے جب ان کی دہشت گردی کی کسی کارروائی کی کسی ایک بھی جماعت کی طرف سے مذمت نہ کی جائے تو ہمارے نزدیک یہی رویہ دہشت گردوں کی شہ اور ان کے حوصلے بلند کرنے کا باعث بنتاہے ملک وقوم کے مفاد کا تقاضاہے کہ ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتیں کسی بھی ایسے ردعمل یا طرزعمل سے گریز کریں جو اہم قومی اثاثوں اور اداروں پر حملہ کرنے والوں کی تقویت یا حمایت کا باعث بن سکتا ہو جو عناصر اعلانیہ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنا کارنامہ قرار دے رہے ہوں اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر رہے ہوں کہ اس قسم کے مزید واقعات کا ارتکاب کیاجائے گا ان سے مذاکرات کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی چند ہفتے پہلے مذاکرات کی بات کچھ اور تھی کراچی کا واقعہ جس میں دہشت گردی کی آڑ میں ملک کے خلاف جارحیت کی گئی ہے اس کے بعد متعلقہ گروپ سے مذاکرات کا مطلب حکومت کی طرف سے اس کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے ملا فضل اللہ گروپ تو پہلے بھی مذاکرات سے انکاری تھا لیکن شوری کی اکثریتی ارکان کی طرف سے مذاکرات کی حمایت کے بعد اسے بھی مجبوراً مذاکرات کے موقف کی حمایت کرنی پڑی کراچی کے واقعہ میں بھارتی اسلحہ اور بعض دیگرشواہد کی موجودگی میں ایک بار پھر یہ واضح ہوگیا کہ یہ گروپ پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کی خفیہ پراکسی جنگ لڑ رہاہے فتح جنگ میں دو کرنیلوں کی شہادت کراچی ایئرپورٹ کا واقعہ شمالی وزیرستان اور آواران میں بم دھماکوں کے نتیجے میں پانچ سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت اور تفتان میں زائرین کے ہوٹل پر دہشت گردوں کا حملہ ایسے واقعات ہیں جو ملک وقوم کے ان دشمنوں کے عزائم کو آشکار کرتے ہیں حکومت کے پاس کل جماعتی کانفرنس کا یہ مینڈیٹ موجود ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں دوسرا آپشن استعمال کیاجائے گا یہ تاثر مسلسل گہرا ہوتا جا رہاہے کہ متعدد جماعتیں اور پاک فوج اس موقف پر واضح ہیں کہ آپریشن ناگزیر ہوچکاہے جبکہ حکومت جو فیصلوں میں تاخیر کی ہمیشہ عادی رہی ہے ابھی تک ابہام سے دوچارہے دوسرے لفظوں میں اس معاملے میں حکومت اور پاک فوج ایک صفحے پر نہیں ہیں اگر واقعی یہی صورتحال ہے تو اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں ہے ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ فتح جنگ اور کراچی کے حالیہ واقعات نے ان عوام کے ذہنوں میں بھی آپریشن کے حق میں فضا ہموار کر دی ہے جو پہلے مذاکرات پر شدت سے زور دے رہے تھے حکومت کو مملکت کے مفاد اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کے حامل فیصلوں میں تاخیر سے گریز کرنا چاہیے۔